English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: روزے دار كا بواسير وغيرہ كے ليے مرہم اور كريم استعمال كرنا - فتوے -: کسی شخص نے فجرکے بعد یہ گمان کرکے کہ ابھی اذان نہیں ہوئی سحری کھا لی اس کا کیا حکم ہے؟۔ - فتوے -: چاند ديكھنے كا حكم - فتوے -: سيكسى سوچ كے نتيجہ ميں منى كا انزال ہونے سے روزہ باطل ہو جائيگا؟۔ - فتوے -: روزے كى حالت ميں ناك كے ليے سپرے استعمال كرنا - نخلستان اسلام -: فصل کاٹنے کا وقت قریب آگیا - نخلستان اسلام -: نجات کی کشتی قریب آگئی -  
ووٹ ديں
مغرب کی اسلام دشمنی کے اسباب میں سے ہے؟
اسلام اور مسلمانوں سے نفرت
صحیح اسلام سے عدم واقفیت
تطبیق اسلام کی صورت میں غیراخلاقی خواہشات پر پابندی
تمام سابقہ اسباب
سابقہ را? عامہ
جہاد کا حکم -

۔(2-6) جھاد اور جہادی عمل میں واقع شدہ غلطیاں

شیخ عصام دربالہ کے قلم سے۔۔ ہمارے اس دور کی جہادی کارکردگی کے میدان میں ظاہر ہونے والی غلطیوں میں غور وفکر کرنے والا سمجھـ لیتا ہے کہ یہ سب غلطیاں ایک ہی وقت میں بارہا ہوتی ہیں اور کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ ان غلطیوں میں سے بعض کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کئی شہروں میں باربارپیش آتی ہیں اور انہیں انجام دینے والے بہت سی اسلامی تحریکوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور بسا اوقات کچھـ غلطیاں ایک ہی جگہ میں کئی بار مختلف عرصوں میں ہوتی ہیں۔ اور مختلف عرصوں میں بارہا ایک ہی غلطی کا پایا جانا یہ دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہیں:

پہلی حقیقت: یہاں کچھـ اسباب ایسے ہیں جو ایک حد تک ان غلطیوں کو پیدا کرنے میں مشترک ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے یہ ان کی تعیین کی جائے اور(ان کا) مناسب حل نکالا جائے۔

دوسری حقیقت: ان غلطیوں کی سدھار میں کچھـ خامیاں ہیں جن کا جاننا بےحد ضروری ہے، اور جیسا کہ ان غلطیوں کی بہت ساری قسمیں ہیں، یہ سب غلطیاں ایک ہی صورت میں رونما نہیں ہوتیں بلکہ ان کے رونما ہونے کی صورتیں اور ان کے واقع ہونے کے میدان مختلف ہوتے ہیں۔ اور ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم ان غلطیوں کواگر پوری طرح نہیں تو کـچھـ حد تک تو نوٹ کرسکتے ہیں، لہذا یہاں عملی جھادی میں کچھـ ایسی غلطیاں ہیں جو انہیں انجام دینے والوں کے قصد و ارادہ اور نیت میں خلل پائے جانے سے وجود میں آتی ہیں، اور دوسرے قسم کی غلطیاں ایسی ہیں جوجہاد کے فریضہ کوسمجھنے میں کچھـ خلل کی بنیاد پرجنم لیتی ہیں، اور تیسری قسم کی غلطیاں ایسی ہیں جو جھاد کے صحیح احکام ناجاننے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور چوتھے قسم کی غلطیاں وہ ہے جو صحیح معنوں میں صورت حال کے سمجھنے میں غلطی کرنے کی بنیاد پر سامنے آتی ہیں، اسی وجہ سے جھاد پرشرعی احکام کے لاگو کرنے میں بہت ساری خامیاں ظاہر ہوتی ہیں، اور اخیر میں یہاں کچھـ ایسی غلطیاں بھی ہیں جو اس کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جو طاقت و قوت کے اندازہ کرنے، اولیات کی رعایت کرنے اور ان اچھی اور خراب چیزوں کے درمیان موازنہ کرنے سے ظاہر ہوتی ہیں جویہ کام انجام دینے کی بنیاد پر رونماں ہوتی ہیں، اور ان غلطیوں کو نوٹ کرنے کے بعد ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان کی تشریح وتوضیح کی جائے اور ان میں سے ہر ہر قسم کی مثال بیان کی جائے:

پہلا: جھادی عمل کی وہ غلطیاں جو قصد و ارادہ اور نیت میں خرابی کی وجہ سے رونما ہوئیں:

اور یہ غلطیاں ان لوگوں میں ظاہر ہوتی ہیں جو جھادی عمل میں لگے ہوئے ہیں اور جن اہداف و مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان میں انحراف پائے جانے کی بنیاد پر جنم لیتی ہیں، اور نیتوں میں اس طرح کا انحراف جہادی عمل انجام دینے کے دوران ظاہر ہوتا ہے چاہے وہ جہاد مشروع ہو یا مشروع نہ ہو، لہذا یہاں انحراف کی وجہ عمل کا مشروع ہونا نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ نیتوں میں خرابی یا غلط مقصد کا حصول ہے، اور ایسی صورت حال میں ان لوگوں کی طرف سے جہاد کی طرف پیش قدمی کرنا یہ کسی دوسرے مقصد کی بنیاد پر ہے(اللہ کے راستےمیں نہیں ہے) بلکہ کبھی ان میں سے کسی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بہادر اور دلیر کہا جائے یا یہ ہے کہ وہ مال غنیمت حاصل کرے یا جاہلی عصبیت اس کوجہاد میں خطرات سے دو چارہونے کے لئے جوش دلاتی ہے۔ اوریہ سب خراب ارادے اس قسم کے حضرات کو ان لوگوں کی فہرست میں لا کر کھڑا کردیتے ہیں جن کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیھ وآلہ و سلم نے فرمایا کہ: (سب سے پہلا شخص جس کا قیامت کے دن فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اے اللہ تعالی کی نعمتیں جتوائی جائیں گی تووہ اسے پہچان لےگا پھر اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے تونے کیا عمل کیا؟ تو وہ کہے گا میں نے تیری رضا کے لئےتیرے راستے میں جہاد کیا یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا تو رب فرمائے گا توجھوٹ بولتا ہے بلکہ تونے جھاد اس لئے کیا کہ تجھے بہادر کہا جائے تو تجھے بہادر کہا بھی گیا۔ پھر اس کے لئے حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹو یہاں تک کہ اس کو جہنم میں ڈال دو) (صحيح مسلم:3527)۔

اور یہاں کچھـ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس"قزمان" نامی شخص کی طرح ہیں جو جنگ احد کے دن مسلمانوں سے پیچھے رہ گیا تو عورتوں نے اسے عار دلایا پھر وہ نکل گیا یہاں تک کہ صف اول میں جا پہنچا اور وہ پہلا شخص تھا جو(جنگ میں) تیر سے زخمی ہوا۔ اور جب مسلمانوں نے اس بات کو جانا تو اس نے کہا کہ: موت (میدان جنگ سے) بھاگ کھڑے ہونے سے بہتر ہے، پھر اس کے پاس سے قتادۃ بن نعمان کا گزر ہوا تو آپ نے اس سے کہا کہ: تمہیں شہادت مبارک ہو، تو اس نے کہا کہ: بخدا میں نےدین کی خاطر جنگ نہیں کی بلکہ اپنے قوم کے حسب نسب کی خاطر میں نے جنگ کی پھراسے زخموں نے بے چین کر دیا اور(اس کی تاب نہ لا کر) اس نے خود کشی کر لی۔

دوسرا: جھادی عمل کی وہ غلطیاں جو فریضہ جہاد کے سمجھنے میں موجود خلل کے باعث جنم لیتی ہیں:

اس قسم کی غلطیاں جہاد کو ایک شرعی فریضہ کی حیثیت سے سمجھنے، اور دیگر فریضوں، شرعی عبادتوں کے درمیان اس کے اہمیت کی تعیین کرنے میں واقع کمی سے پیدا ہوتی ہیں، اور پھر اسی کمی کے باعث جہاد کا (مختلف) اہداف و مقاصد کے زمرے شمار کیا جاتا ہے، اور اسی کویکتا اختیار مان لیا جاتا ہے جس کی پیروی حقیقت کے ہمراہ چلنے کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اور جھاد کے معنی ومفہوم کو میدان جنگ میں دشمنوں کو تلوار سے مارنے پرمحدود کردیا ہے، اور جھاد کے معنی کی اس وسعت کومسترد کردیا جاتا ہے جس میں جہاد کے ساتھـ ساتھـ دیگرسیاسی، فکری، اقتصادی، ٹکنالوجی اور سماجی وغیرہ میدان کی شمولیت بھی ہوتی ہے۔

تیسرا: جھاد کے صحیح احکام سےنا بلد ہونے کے باعث جنم لینے والی غلطیاں:

اس قسم کی غلطیاں شرعی احکام کی صحیح معرفت سے ہٹ کر جھادی عمل کو بروئے کار لانے کے نتیجے میں رونما ہوتی ہیں جو(شرعی احکام اس جہاد کو) سنوارتی اور نکھارتی ہیں۔ کیونکہ یہاں کچھـ ایسے لوگ بھی ہیں جوبغیرکسی سوچ و فکرکے یا ان اسباب و شرائط، موانع شرعیۃ کو جانے بغیر جھاد کرتے ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان کے ساتھـ مل کردرست ہوسکیں، لیکن پھر بھی وہ اسباب کے نہ پائے جانے یا شرطوں کے پورا نہ ہونے یا کسی (معقول) ممانعت کے پائے جانے کے باوجود بھی جہاد کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ اور یہاں کچھـ ایسے بھی لوگ ہیں جو حکم شرعی کے پہچاننے میں غلطی کر بیٹھتے ہیں جسکی وجہ سے وہ اس قول کو بنیاد بنالیتے ہیں جو علماء کے اجماع کے مخالف یا ان علماء کے راجح قول کے مخالف ہے۔ اور اسکا ثبوت ان لوگوں کی مثال ہے جو کافروں کی عورتوں اور بچوں کے قتل کو جائز قراردیتے ہیں، اور کچھـ ایسے لوگ بھی ہیں کفار میں سے عام لوگوں کےقتل کو جائز قرار دیتے ہیں اگرچہ ان لوگوں کا لڑنے کا ارادہ نہ ہو، اور بھی کچھـ لوگ ہیں جوکسی بھی حال میں صلح کے قائل نہیں ہیں، اور کچھـ لوگ جو قومیت کی بنیاد پرقتل کو جائز قرار دیتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو اسلامی شریعتوں کی پابندی نہ کرنے والی جماعت کے افراد پریقینی طورپر مرتد ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت ساری مثالیں ہیں۔

چوتھا: حقیقت حال کے سمجھنے میں اور ان پر شرعی احکام کے لاگو کرنے موجود کمی کے باعث جنم لینے والی غلطیاں:

شاید غلطیوں کی یہ قسم آج کےجہاد ی کارکردگی کی عام طورپر غلطیوں کے ایک بڑے حصّے کی نمائندگی کر رہی ہے، اور یہ سب غلطیاں حقیقت حال کو نہ سمجھنے اور شرعی احکام کو ان پرمناسب اور بہتر طرح سے نہ لاگو کرنے میں کوتاہی برتنے کے سبب جنم لیتی ہیں، اور مختلف پیمانوں پر حقیقت حال کے جاننے میں یہ کوتاہی اور اس میں موجود اس قدر گنجلک پیچیدگیوں کی بنیاد پر اس چیز کی حقیقی وصف بیان کرنے میں خلل اور کمی پیدا ہوتی ہے، جس سے شرعی احکام کا غلط لاگو کرنا لازم آتا ہے، یہ چیز اس وقت کھل کر سامنے آجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ان فقہی اقوال کو ترجیح دیتے ہیں جو گزشتہ عرصوں میں لکھے گئے ہیں ان اقوال کو دور حاضر کے حالات پر لاگو کرنا چاہتے ہیں یہ سوچ کر کہ یہ اس وقت کے لئے موزوں ہیں، حالانکہ وہ حقیقت میں ان میں موجود وسیع فرق کا احساس نہیں کر رہا ہے جس کے پیش نظر یہ اقوال آج کے دورمیں ذکر کئے گئے ہیں، کیونکہ اب کسی خلافت کا تصور نہیں، اور امت کمزوری کا شکار ہو چکی ہے اس کے پاس نہ تو کوئی طاقت و قوت باقی ہے اورنہ ہی کسی قسم کی کوئی مدد جیسا کہ پہلے اس وقت تھا جس عرصہ میں یہ فقہی اقوال لکھے گئے۔ اور نیز اس کمی کا اظہار بعض علاقوں میں جہاد کرنے والی جماعتوں کے ان اختیارات کے چھین جھپٹ کرنے سے ہوتا ہے جو اختیارات خلفاء اور ائمہ کے ساتھـ خاص ہیں، ان جماعتوں کے قائدین حضرات کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہیں جو ان ائمہ اور حکّام کے پاس ہیں، اور نہ ہی ان کے پاس ایسے امکانیات ہیں جوان کے امکانیات کے مساوی ہوں، اور نہ ہی تمام امت اسلامیہ کے حق میں ان کی مجموعی طور پر یا جزئی طور پراطاعت و فرمانبرداری ممکن ہے جو ان (ائمہ و حکام) کے اطاعت و فرمانبرداری کے برابر ہو، اور یہی فرق ان ائمہ و خلفاء کو ان جماعتوں کے قائدین کے حق میں دیئے گئے بعض اقتدارات میں تباین (اختلاف) کو واجب کرتے ہیں اس کا اعتراف کرنا اور اس سے متنبہ ہونا بےحد ضروری ہے۔

اور اسی کمی کا نتیجہ حقیقت حال پر شرعی احکام کے لاگو کرنے میں اس کو منظم کرنے والے بنیادی طورپر شرعی قواعد میں لاپرواہی برتنا ہے، اور یہ دوسرے رخ کا طبعی نتیجہ ہے جو اس خلل اور کمی سے بھی زیادہ خطرناک ہے، وہ یہ کہ بعض حضرات کا مجتہدین کے رول و دور کا چھیننا ہے حالانکہ ان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں جو ان کو اس قابل بنا سکیں۔

اور ساری گذری ہوئی چیزوں کے علامات میں سے یہ بھی ہےجو آج ہم دیکھـ رہے ہیں کہ مسلم ممالک کی بعض لوگ غلط وصف بیان کرتے ہیں کہ وہ مرتد (ممالک) کے حکم میں ہیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ ان ملکوں کے حضرات مجموعی طور پر اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں یہ سوچ کر کہ ان لوگوں کے اندر شرک سرایت کر گیا ہے یا یہ لوگ اس حکم سے راضی ہیں جو اللہ رب العالمین نے نازل نہیں کیا۔

اوریہ اسی (خلل و کمی) کا نتیجہ ہے کہ بعض لوگ جو ادھا دھند بمباری کرتے ہیں اگر چہ اس سے بے شمار مسلم ہی کیوں نہ قتل کئے جائیں یہ دلیل پکڑتے ہوئے کہ اس مسلم ڈھال پر تیر برسانا جائز ہے جو کافرانسانی زرہ کی شکل میں بنائے ہوئے ہیں اور اس سے اپنی حفاظت کررہے ہیں۔

اور نیز یہ بھی جو بعض لوگ رواج دیتے ہیں کہ اہل کتاب کی جماعت کے افراد سے جزیۃ لینا جائزہے اور ان کا قتل کرنا بھی جائزہے، یہ دلیل پکڑتے ہوئے کہ یہ لوگ حربی ہیں ذمی نہیں اوراسی طرح کی بہت ساری غلطیاں ہیں جو سب کے سب حقیقت حال سے لاپرواہی برتنے کی بنیاد پر جنم لیتی ہیں اور اسی طرح سے (کچھـ غلطیاں ایسی بھی ہیں جو) جزئی حوادثات پر شرعی احکام کے لاگو کرنے میں سامنے آتی ہیں۔

پانچواں: جہادی عمل میں واقع وہ غلطیاں جو طاقت و قوت اور استطاعت کا اندازہ لگانے میں خلل کے باعث جنم لیتی ہیں اور اس میں اولیات کی رعایت نہیں ہوتی اور اچھائی و برائی کے درمیان موازنہ بھی نہیں ہوتا جو ان کارکردگی کی بنیاد پر سامنے آتی ہیں:

شاید کہ اس قسم کی غلطیوں کے رونما ہونے کی وجہ یہ ہے کہ احکام شرعیہ کی اچھی طرح سے معرفت کا نہ ہونا اور اسی طرح سے حقیقت حال کو شمولیت کے ساتھـ نہ سمجھنا جس سے اپنی اور دوسروں کی ذاتی استطاعت کی تعیین ہو سکے اور مواقع کا انکشاف ہو سکے اور چیلنج کا اندازہ لگایا جاسکے اور پھر اولیات کی تعیین کی جا سکے، لیکن یہ چیزیں اس بات کی نفی نہیں کر سکتی ہیں کہ ان امور میں سے زیادہ تر حصّے کے رونما ہونے کی وجہ وہ ان چیزوں کے غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ ہیں جوسوچ و فکر میں غلط راستہ اختیار کرنے کی بنیاد پر سامنے آتا ہے جس سے بسا اوقات وہ لوگ متصف ہوتے ہیں جو اس طرح کے کاموں کو انجام دیتے ہیں، اور یہی چیز طاقت و قوت اور استطاعت میں غور و فکر کرنے سے لاپرواہی کی دعوت دیتی ہے اور نتائج و انجام کی طرف متوجہ ہونے سے بے رخی برتتی ہے، اور جن مفادات کا حصول ممکن ہے ان کے درمیان اور ان خرابیوں کے درمیان جن سے گریز کرنا نہایت ضروری ہے موازنہ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا ہے۔

یہی ان غلطیوں کی اہم صورتیں ہیں جو ان دنوں جہادی عمل کے انجام دینے میں سامنے آتی ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورۃ تفصیل کے بہت فوائد ہیں: ایک اعتبار سے یہ مجاہدین کو اس سے متنبہ کرتی ہے جس سے ان کو ان ساری چیزوں سے گریز کرنے میں مدد ملتی ہے، اور دوسرے اعتبار سے یہ سدھار ہماری مدد اس طرح سے کرتی ہے کہ ہم ان وجوہات و اسباب کو یقینی طور پر جان سکتے ہیں جو جہادی عمل کو مختلف زمانے اور مختلف جگہوں میں انجام دینے میں غلطیوں کے قسم در قسم اور بارہا رونما ہونے کی وجہ بنتی ہے۔

الجهاد وأخطاء الممارسة 2-6 UR



جہاد کا حکم -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت