|
۔(2-2) اس زمانے میں جہاد کو باطل قرار دینے والے جہاد کی منسوخی کا دعوی کرنے والوں کی تعداد میں اضافے اور ان کے کئی گنا ہونے کی بنیاد پر اس زمانے میں، اس بحران کی سنگینی کا تعیین ہوتا ہے جس سے اس دور میں ملت اسلامیہ دو چار ہے۔ جہاد کی کلّی یا جزوی طور پر منسوخی کے ماننے والوں پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ان میں سے بعض اپنے اقوال اور آراء کی بنا پر منفرد اور دوسروں سے علیحدہ نظر آتے ہیں اور بعض دوسروں کی آراء کو مانتے ہیں۔ بعض وہ ہیں جو جہاد کی مکمل طور پر منسوخی کو ماننے والوں کی فہرست میں درج کئے جاتے ہیں اور بعض جہاد کی جزوی منسوخی کی فہرست میں آتے ہیں اور بعض دونوں امور کو جمع کرتے ہیں۔ اپنے بیان کے اثناء میں ہم بقدر امکان ان کی جانب اشارہ کریں گے۔
جہاد کی کلی یا جزوی طور پر منسوخی کے ماننے والوں کی فہرستیں متعدد اور کئی قسم کی ہیں۔ ان میں اسلام کے دشمن، بعض مستشرقین کے ساتھـ بعض گمراہ اسلامی فرقوں کے علاوہ اسلام سے نسبت رکھنے والے یا اہل علم شامل ہیں۔ آنے والی سطور میں ہم انہیں جماعتوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
١- اسلام کے دشمن، ملّت اور امت کی دولتوں کے لالچی:
اسلام کے دشمن بہت ہیں، اسلام دشمنی کے لیے اُن کے اسباب مختلف ہیں۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے مذاہب کے پس منظر میں دشمنی رکھتے ہیں مثال کے طور پر یہود ونصاری اور دوسرے مذاہب کے پیروکار، اور انہیں لوگوں میں وہ بھی آتے ہیں جو اسلامی ممالک کی دولتوں پر لالچی نگاہ رکھتے ہیں اور وہ بھی ہیں جن میں یہ دونوں برائیاں پائی جاتی ہیں۔ غالبـا بارھویں صدی عیسوی کے آغاز سے کچھـ پہلے تین صدیوں تک جاری صلیبی جنگیں اور عثمانی خلافت کے زوال کے بعد اسلامی ممالک پر یورپی سامراجیت کا زمانہ اس کی بہتریں ثبوت ہیں۔ اس وجہ سے یہ فطری بات تھی کہ یہ لوگ یا وہ لوگ اپنے منصوبوں کی کامیابی کے لیے امت اسلامیہ کو مسلح مزاحمت سے الگ کرنے اور اُن کے دلوں میں بھڑکے ہوئے انگارۂ جہاد کو بجھانے کی پوری کوشش کریں۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے تمام تر وسائل استعمال کئے جو انہیں میسر تھے ؛ ہو سکتا ہے کوئی آج یہ کہے " یہ تو قدیم میراث ہے اور آج اس کا کوئی وجود نہیں، ہم نے اب صلیبی جنگوں اور سامراجی زمانوں کو الوداع کہدیا ہے۔" بعض لوگ ایسے ہی وہمی اقوال میں مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں اسلام کا خوف ماضی میں اتنا نہیں تھا جتنا کہ آج ہے۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کا بھڑکا ہوا انگارہ ابھی بجھا نہیں ہے بلکہ یہ دوبارہ بھڑکنے لگا ہے۔ اور سامراجیت اپنے تمام تر وسائل کے ساتھـ واپس آ رہی ہے اور امت اسلامیہ کی مال و دولت اور خزانوں کے وہ ماضی میں اس قدر لالچی نہیں تھے جس قدر کہ آج ہیں۔ اس وجہ سے، جہاد کو منسوخ کرنے کے لیے، دشمنان اسلام اور امت کے خزانوں کے لالچیوں کے وسائل کئی قسم کے ہو گئے ہیں اور یہ محض اسلام کو غلط انداز میں پیش کرنے اور اس پر اعتراض کرنے تک محدود نہیں رہے۔ یہاں ہم ان کے اہم وسائل کی نشاندہی کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
· اسلام کی طرف منسوب گمراہ فرقوں کی مدد جو جہاد کا انکار کرتے ہیں، مثال کے طور پر: ہندوستان میں برطانوی سامراج قادیانی فرقہ، جو اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتا ہے، صرف اس وجہ سے مدد کرتا تھا کہ اس فرقہ نے ایک فرض کے طور پر جہاد کو منسوخ کرنے کے علاوہ، ہندوستان پر قبضہ کرنے میں اس ( برطانیہ ) کی مدد کی تھی۔
· کمیونزم کی جگہ اسلام کو اپنا دشمن سمجھنا اور مشروع وقانونی جہاد اور ممنوع دہشت گردی کو عمدا ایک دوسرے سے ملانا۔
· اسلامی ملکوں میں نصاب تعلیم کو عمومی طور پر اور مذہبی تعلیم کے نصاب کو خاص طور پر تبدیل کرنے کے لیے ان ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا جس سے نصاب تعلیم مذھب کے مفہوم سے خالی ہوجائیں۔
· جہاد کے مفہوم کو غلط انداز میں پیش کرنے اور اسے کلّی یاجزوی طور پر منسوخ کرنے کےلیے علماء اور مفکرین اسلام پر دباؤ ڈالنا۔
ہم نے اگرچہ، جہاد کی منسوخی کے لیے دشمنان اسلام کے طریقوں پر روشنی ڈالی ہے لیکن اس کا مفہوم یہ بھی نہیں کہ یورپی اور امریکی معاشرے اور ان کے فیصلہ ساز مراکز کے تمام عناصر اسلام اور جہاد کے بارے میں اس موقف کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں یا مذکورہ اسالیب اور طریقوں پر مطمئن ہیں، کیونکہ ان معاشروں کے متعدد سیکٹرز اور فیصلہ ساز مراکز کے بہت سے حلقے، اس اسلام دشمن نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔ اور وہ اس کے برعکس طریقوں پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
٢- بعض تحقیقاتی مراکز اور مستشرقین (مشرقی علوم کے غیر مسلم یورپی علماء):
یورپی ممالک اور امریکہ میں تحقیقاتی مراکز، فیصلہ سازی بڑا کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں ان ممالک کی حکومتیں، ان سے جاری کردہ تحقیقاتی مطالعوں کو نہ صرف بغور سنتی ہیں بلکہ انہیں اہمیت دیتی ہیں ہمارے لیے تو اتنا جان لینا کافی ہے کہ، بوش (بیٹے) کے عہد میں امریکی وائٹ ہاوس امریکہ کی پرینسٹون یونیورسٹی کے مشرقی وافریقی مطالعوں کے پروفیسر" برنارڈ لویس" کی رائے کو اُن تمام امور میں مد نظر رکھتا تھا جو مشرق وسطی میں امریکی مفادات یا اس اسلامی علاقے کے ملکوں کے ساتھـ اس کے تعلقات کے بارے میں ہوتی تھیں۔ اسلامی خطے یا اسلامی دنیا سے متعلق ان تحقیقاتی مراکز پر کوئی نہ کوئی محقق ضرور مسلط ہوتا ہے جو مستشرقین کے نام سے معروف ہیں۔
استشراق خصوصی علمی شعبہ ہے۔ جس کے اپنے اصول، منصوبے اور مقاصد ہیں۔ یہ مغربی یورپ میں پروان چڑھا، اور مشرقی ممالک پر سامراجی تسلط کے زمانے میں خوب پھلا پھولا۔ استشراقی مطالعوں کے محور (موضوعات)، مشرقی ممالک، ان کی تہذیبوں، زبانوں، مذاہب، فلسفے اور آداب کے بارے میں ہوتے ہیں۔ اور یہ فطری بات ہے کہ مستشرقوں (orientalists) کی دلچسبی کا مرکز اسلامی علوم ہوں۔ عالم اسلامی کے ملکوں پر یورپی سامراجیت کے زمانے میں جب استشراق خوب پھلا پھولا، اسی زمانے میں اسلام کے بارے میں استشراقی مطالعے کئے گئے جو مقصد وموضوع سے خالی، اسلامی مفاہیم کو توڑ مروڑ کر غلط انداز پر پیش کرتے ہیں۔ یہ مطالعے اسلامی ممالک پر سامراج کے غیر قانونی تسلط کو جائز قرار دینے کے ساتھـ ساتھـ ان ممالک کے سرچشموں پر سامراج کے کنٹرول کے جاری رہنے پر بھی پردہ ڈالتے ہیں۔
مستشرقین اپنے اس رجحان سے امریکہ اور یورپ کے فیصلہ سازوں کو متعدد نصیحتیں اور مشورے دیتے ہیں۔ انہیں میں یہ مشورہ بھی ہے کہ تمام ممکنہ وسائل سے، مسلم عقلوں سے جہاد کے مفہوم کو محو کر دیا جائے۔ تاکہ مغرب بالآخر ان ممالک پر قبضہ کر سکے اور اسکی تہذیب دوسری تمام تہذیبوں پر مکمل طور پر چھا سکے۔
٣- اسلام سے منسوب یا اس سے منحرف (باغی) بعض فرقے:
مختلف زمانوں میں اسلام سے منحرف فرقے اور جماعتیں پیدا ہوتی رہیں، یہ فرقے اپنے انحراف کے درجوں کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ چنانچہ علماء اسلام ان کے انحراف اور بغاوت کے باوجود انہیں دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔ بعض دوسرے فرقے وہ ہیں جنہیں علمائے اسلام ان کے باغیانہ باتوں کے باعث، متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ اگرچہ ان جماعتوں کا انحراف، دوسری جماعتوں کے انحراف سے مختلف ہے اور ان کی باتیں کئی نوعیت کی ہیں، کبھی عقائد پر اعتراض کرتے ہیں تو کبھی احکام وقواعد پر۔ یہاں ہم اُن جماعتوں یا فرقوں کی نشاندہی کریں گے جو جہاد کے صحیح مفہوم سے منحرف ہوگئی اور اسے باطل قرار دے دیا۔ ہم دو جماعتوں کو بطور مثال پیش کریں گے۔ ان دو جماعتوں میں سے ایک قادیانی ہے: تمام علماء اسلام متفقہ طور پر اس جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ دوسرا فرقہ جسے علماء، اسلام سے منسوب جماعت شمار کرتے ہیں وہ ہے شیعہ فرقہ کی ایک گروہ "امامی اثنا عشری"۔ گو کہ شیعہ فقہ میں اس قول کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے فقیہ ( عالم فقہ ) تمام یا بعض امور میں امام کی جگہ لے سکتا ہے۔ یہ نظریہ "ولایۃ الفقیہ" (عالم فقہ کی ولایت) کے نام سے معروف ہے۔ یہ نظریہ سنہ 1979ء میں، اسلامی دعوت کی کامیابی کے بعد، ایران میں عمل در آمد کے لئے امام خمینی نے وضع کیا تھا۔ لیکن یہ نظریہ۔ اپنے قول اور دائرہ کار کے تعیین کے اعتبار سے، شیعہ مراجع (حوالہ جات) میں آج تک ایک بڑا اختلافی موضوع بنا ہوا ہے۔
٤- بے دین انتہا پسند (ملحد):
لا دینی یا سیکولرزم ایک فکری طریقہ ہے جو بادشاہوں اور کنیسہ کے درمیان رسہ کشی کو ختم کرنے کے لیے یورپ میں پروان چڑھا۔ اس کی رو سے، کنیسہ کو روحانی اقتدار ملا اور بادشاہ دنیوی اقتدار کے اکیلے مالک ہو گئے۔ اس کا مفہوم مذہب کو حکومت سے علیحدہ کرنا ہوا۔ ہماری ملت اسلامیہ متعدد بے دینوں کی آزمائشوں میں مبتلا ہوگئی، ان بے دینوں نے، مذہب کو حکومت سے علیحدہ کرنے، لوگوں کی زندگی کو منظم کرنے، یا معاشروں کی خاکہ سازی یا ان کی تیاری میں مذہب کو دور رکھنے کی ضرورت کو خوب پھیلایا۔ تاکہ مذھب انسان اور اس کے رب کے درمیان ذاتی تعلقات بن جائے اور اس سے تجاوز نہ کرے۔
موجودہ حالت ایک فطری بات ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ملحدین اسلام دشمنی کے باعث مذھب پر پس ماندگی کی وجہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور مغرب اور اس کی تہذیب کو قابل تقلید مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، یہی نہیں بلکہ بعض بے دین، اسلامی ممالک پر کنٹرول کرنے کے لیے مغرب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ یہ ممالک ترقی کی جانب راہ پائیں۔
یہ لوگ شریعت اسلامی کی پابندی پر یقین نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے ان کے یہاں ایک فرض کے طور پرجہاد کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ لہذا اسے ختم کرنے کے لئے وہ اپنے زہریلے تیر اس کی طرف چلاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض کا تو خیال ہے کہ جہاد ایک زبردستی ہے اور اس کے خلاف مزاحمت کی جانی چاہئے اسی مفہوم میں انہیں میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ "انہیں مسلمہ (ناقابل تبدیل) امور میں سے یہ ہے کہ اسلامی شریعت سرمدی ( خدائی – دائمی ) ہے اس وجہ سے جب تک انسان اس زمین پر ہے یہ شریعت ہر زمانے اور ہر جگہ کے لئے قابل عمل ہے یہ مسلمانوں کی ایک اور غلطی ہے۔ اسلامی شریعت ہمارے آج کے زمانے میں قابل عمل نہیں ہے اس کے لئے کسی دوراندیشی کی ضرورت نہیں ہے۔ شریعت تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مذہب کی طرف مائل کرتی ہے"۔
مبالغہ آرائی کرنے والے بے دینوں کا اگر یہی موقف ہے۔ تو بہت سے بے دین خود اس رائے کو قبول نہیں کرتے۔ پروفیسر محمد حسنین ھیکل کی رائے کے مطابق ان کا خیال ہے کہ اسلام اور جہاد آخری دفاعی خط کی مانند ہے۔ جس سے ملت اسلامیہ کمزوری اور سامراجیوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی حالت میں، اپنی حفاظت کرتی ہے۔
٥- شرعی علوم اور تبلیغ اسلام سے منسوب بعض لوگ:
شرعی علوم اور تبلیغ اسلام سے اپنے آپ کو منسوب کرنے والے بعض ایسے لوگ وقتا فوقتا ظاہر ہوتے رہتے ہیں جو جہاد کے قضیتوں اور مسائل کو اس طرح بیان کرتے ہیں جس سے جہاد جزوی طور پر منسوخ ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ جہاد کے انکار یا اس کی کلّی طور پر منسوخی کے قائل نہیں ہیں بلکہ یہ تو اس سے بالا ہیں لیکن فریضہ جہاد کا اصل مفہوم نہ سمجھـنے، یا ان کی غلط تاویلوں اور تفسیروں یا غلط موقع پر پیش کرنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ ارادے یا بدنیتی یا پوشیدہ خباثت کی بنا پران سے ایسا بیان صادر ہو۔
لوگوں میں فہم وسمجھـ بوجھـ کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے اس وجہ سے جب ہم تبلیغ اسلام سے نسبت رکھنے والے شخص کو یہ کہتے ہوے سنتے ہیں تو ہمیں تعجّب نہیں ہوتا: آج ہم فتنوں کے زمانے میں ہیں جس کی وجہ سے مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی جان اور اپنے مذہب کی نجات کے لئے علیحدہ اور گوشہ نشین ہوجائیں۔ دوسروں کے ملکوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف جہاد یا نوآباد کاروں کے خلاف مزاحمت کرنا ان کے نزدیک جائز اور صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ان میں سے بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ اپنے ملک پر غیر ملکیوں کا قبضہ اللہ رب العزت کی جانب سے لکھی ہوی قسمت ہے اس کے آگے دستبردار ہونا اور اسے قبول کرنا واجب ہے۔ دوسرے لوگ جن کی تعداد، کمزوری اور شکست کے حالات میں زیادہ ہو جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم آخری زمانے میں ہیں دنیا ختم ہونے کے قریب ہے۔ قیامت کی شرطیں اور علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں اور وہ مہدی منتظر کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اُن کے ساتھـ جہاد کریں اور یہ اس کا حکم دیتے ہیں اپنے علاقوں کے دفاع سے قبل اسلامی خلافت کی بحالی کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ مہدی کے آنے سے پہلے کوئی بھی کوشش صحیح نہیں ہے۔ ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے بہت زیادہ غور وفکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ان لوگوں کے نزدیک نئے حکم کے آنے تک عراق فلسطین یا کسی اور جگہ جہاد ملتوی ہے اور مہدی کے آنے تک علیحدگی ہی ان کے نزدیک حل ہے۔ غالبا ہمارے ذہنوں میں ایک عالم کا وہ فتوی اب تک موجود ہے جس میں انہوں نے سنہ ١٩٧٩ء میں افغانستان پر سویت یونین کے قبضے کے وقت وہاں جہاد کو اس وجہ سے ممنوع قرار دیا تھا کہ زمین پر با اقتدار اور طاقتور خلیفہ موجود نہیں تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں کے خلاف استشھادی حملوں کو حرام کہتے ہیں۔
المبطلون للجهاد فى هذا الزمان 2-2 UR
جہاد کا حکم -
|