|
کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ بقلم: سید ابوداؤد۔۔ سیکولرمزاج رکھنے والے جو اسلام کو ناپسند کرتے ہیں وہ اس حدیث (عورتیں عقل و دین کے اعتبار سے ناقص ہوتی ہیں) کو دلیل بنا کر بارہا وہی بات دہراتے ہوئے تھکتے نہیں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے، وہ عورت کی سمجھـ بوجھـ اور اس کی ذہانت کا اعتراف نہیں کرتا، ان لوگوں کا خیال ہے کہ سمجھـ بوجھـ کے اعتبار سے بھی عورت مردوں کی طرح ہے، لیکن حدیث میں اس بات کی صراحت کرکے اسلام نے عورتوں کو عقل و دین کے اعتبار سے ناقص اور ادھورا قراردیا، ایسا کرکے اسلام یہ قانون بنادیتا ہے اور پھر یہاں سے عورت کی اہلیت معدوم ہو کرکے رہ جاتی ہے اور وہ مردوں سے کمتر ہوجاتی ہے۔
عجیب وغریب بات یہ ہے کہ بذات خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے دل و دماغ میں اس غلط نظریہ نے جگہ بنالی ہے، ان مسلمانوں نے عہد نبوی اور اسلام کے ابتدائی دور میں اور پھر اسلامی تہذیب و ثقافت کے خوشحالی اور ترقی یافتہ دور میں عورتوں کی صورت حال پر نظر نہیں ڈالی بلکہ انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کے دور میں ان کے دشمنوں کے جانب سے ان پر حکمرانی کئے جانے والے دور میں عورتوں کی صورت حال پر نظر ڈالی۔ اسلام کے ابتدائی دور میں پورے عالم نے ان مسلم عورتوں کی قدروقیمت دیکھی، جو عورتیں زندگی کے ہرہر میدان میں آگے ہوا کرتی تھیں، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرتی تھیں، آپ سے مسئلے مسائل پوچھتی تھیں، علمی مجلسوں میں حاضر ہوا کرتی تھیں، جنگوں میں بھی خدمت کی غرض سے شرکت کرتی تھیں اور بازاروں میں بھی اپنے ضروری کام سے نکلتی تھیں وغیرہ وغیرہ۔ اب جس عورت کی کیفیت یہ ہو، ہم اس کے متعلق کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام عورتوں کی قدر و قیمت گھٹاتا ہے اور اس کی سمجھـ بوجھـ کو کمتر قرار دیتا ہے؟ یہ بات اس حدیث کے ساتھـ کیسے صحیح ہوسکتی ہے جس حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے (تم لوگ آدھا دین اس حمیراء سے حاصل کرو) اس سے آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مراد لے رہے ہیں؟۔ اسی طرح سے یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے جبکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے دل میں بہت اونچا مقام تھا اور آپ کے بعد پوری امت میں ان کا مقام بہت ہی بلند ہے، اسی طرح سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا مقام بھی مسلمانوں کے نزدیک بہت ہی بلند وبالا ہے، ان کے علاوہ بہت ساری خواتین ہیں جن کو عظیم مقام حاصل ہے؟۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم تھوڑی دیر توقف کریں اور اس حدیث میں غور و فکر کریں جس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے "باب الایمان" میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے آپ کا ارشاد ہے "اے عورتوں کی گروہ صدقہ کرتی رہا کرو اور کثرت سے استغفار کرتی رہا کرو کیونکہ میں نے دوزخ والوں میں سے زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ہے، ان عورتوں میں سے ایک عقلمند عورت نے عرض کیا کہ ہمارے کثرت سے دوزخ میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعنت کثرت سے کرتی ہو اور اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہو میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر عقل و دین میں کمزور اور سمجھـدار مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والی نہیں دیکھی، اس عقلمند عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ماہواری (حیض) کے دنوں میں نہ تم نماز پڑھ سکتی ہو اور نہ ہی روزہ رکھـ سکتی ہو یہ دین میں کمی ہے"۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ نے یہ بات ہنسی کے طور پر کہی ہے، کیونکہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنیاد پر ہم عورت کو عیب دار سمجھیں یا ایک انسان کی حیثیت سے اسے کمتر جانیں۔ عورتوں میں عقل کے نقصان کی جو بات حدیث میں ذکر کی گئی ہے تو اس کا تعلق اس کے حفظ کی کمزوری سے ہے اس کی گواہی دوسری عورت کی گواہی کے ساتھـ مل کر اس کمزوری کو پورا کردیتی ہے، ایسا اس لئے تاکہ گواہی حقیقت کے مطابق ہوسکے کیونکہ وہ حفظ کی کمزوری کی بناء پر بھول سکتی ہے بنابریں وہ گواہی میں کمی یا بیشی کرسکتی ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے (وَٱسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ مّن رّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَٱمْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ ٱلشُّهَدَاء أَن تَضِلَّ إْحْدَاهُمَا فَتُذَكّرَ إِحْدَاهُمَا ٱلأخْرَىٰ) (البقرة:282)،.(اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھـ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جہنیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو، تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلادے)۔ اسی طرح سے حدیث پاک میں جو دین سے متعلق نقصان کی بات کہی گئی ہے تو وہ اس وجہ سے کہ عورت حیض و نفاس کی حالت میں نماز چھوڑ دیتی ہے، روزہ بھی چھوڑ دیتی ہے اور وہ اس مدت میں چھوٹے ہوئے نماز کی قضاء بھی نہیں کرتی ہے، تو اس کو دین میں نقصان سے تعبیر کیا گیا ہے، لیکن اس کمی پر اس سے کوئی مؤاخدہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اللہ رب العالمین کی شریعت ہی سے عورت کی حالت پر رحم کرتے ہوئے اور اس کو آسانی فراہم کرتے ہوئے یہ کمی حاصل ہو رہی ہے، اس سے یہ لازم تو نہیں آتا کہ ہر چیز میں اس کی سمجھـ بوجھـ ادھوری اور ناقص ہو اور ہرچیز میں اس کا دین ادھورا ہو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کے دین کی کمی اس اعتبار سے ہے جو اس مدت میں کچھـ چیزیں اس سے چھوٹ جاتی ہیں، اسی طرح سے اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا ہے کہ وہ ہرچیز میں مردوں سے کمتر ہے اور مرد کو ہر چیز میں اس سے برتری حاصل ہے، بسا اوقات بہت ساری چیزوں میں عورت مردوں پر فوقیت لے جاتی ہے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت نیک عمل اس حد تک کرتی ہے کہ وہ بہت سارے نیک عمل کرنے والے مردوں پر بھی سبقت کرجاتی ہے، اسی طرح سے عمل کرنے کی بنیاد پر تقوی و پرہیزگاری میں اور آخرت میں مقام و مرتبے کے اعتبار سے بھی مردوں سے آگے بڑھ جاتی ہے، بسا اوقات بعض معاملات کو ازبر کرنے میں اس کو قدرت حاصل ہوتی ہے لہذا وہ اسے بعض مردوں سے بھی کہیں زیادہ بہتر طریقے سے یاد رکھتی ہے خاص طور پر ایسے مسائل میں جس کا تعلق اس سے ہوتا ہے، وہ ان مسائل کے یاد رکھنے کا کافی اہتمام کرتی ہے،اس طرح سے وہ اسلامی تاریخ میں اور دیگر امور میں بھی مرجع ثابت ہوتی ہے، اسلام کے ابتدائی دور میں اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے عام ہونے والے دور میں بھی عورتوں کی حالت میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے یہ بات روز روشن کی طرح بالکل عیاں ہے۔ دوسرے اعتبار سے اس حدیث کو آیت دین سے ہٹ کر سمجھنا ممکن نہیں ہے جس آیت میں گواہی کے نصاب کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے (واستَشْهدوا شهيدين من رِجالِكم فإن لم يكونا رَجُلَيْن فرَجُلٌ وامرأتان مِمَّن تَرضَوْن من الشُّهداء أنْ تَضِلَّ إحداهما فَتُذَكِّرَ إحداهما الأخرى) (البقرة: 282)، (اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھـ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جہنیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو، تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلادے)۔ حدیث پاک میں صراحت کے ساتھـ یہ لفظ مذکور ہے کہ ان میں سے ایک جزلہ عورت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھـ بحث و مباحثہ کیا، اور جزلہ اس عورت کو کہتے ہیں جو عقلمند ہو، تو پھر کیسے کوئی عورت ایک ہی وقت میں عقل کے اعتبار سے ناقص اور پھر عقلمند ہوگی؟۔ عورتوں کی سمجھـ بوجھـ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی تعجب کا اظہار کیا کہ ان میں سے کوئی عورت ایک عقلمند اور ذہین آدمی پر غالب آجاتی ہے، تو پھر کیسے ایک ناقص سمجھـ بوجھـ رکھنے والی عورت ایک عقلمند اور ذہین مرد پر غالب آتی ہے؟۔ (باقی آئندہ۔۔۔)هل للإسلام موقف سلبي من المرأة؟ UR
مسلم خاندان -
|