|
کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(2)۔ بقلم: سید ابوداؤد۔۔ کسی مقصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے سوچ و فکر، سمجھـ بوجھـ اور ذہانت کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں تجربہ کے ساتھـ ہی ساتھـ حِسی ادراک کا بھی بہت ہی اہم کردار ہوتا ہے، اس ملکہ کے پائے جانے کے بھی اسباب ہوتے ہیں جو تمام رکاوٹوں کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں وجود میں آتا ہے، بایں طور پر کہ حِسی ادراک یہ حالات کی شناشائی اور اس سے متنبہ رہنے کی صورت میں جنم لیتا ہے۔ جہاں تک تجربہ کا تعلق ہے تو آدمی اسے بذات خود اپنی کد و کاوش کی بنیاد پر صورت حال سے متعلق معلومات اکٹھا کرکے، ان حالات میں زندگی گزار کرکے اور غور و فکر کرنے کے آلات و طریقوں سے حاصل کرتا ہے۔ رہی ذہانت کی بات تو وہ بنیادی طور پر اس ذہنی استطاعت کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو کم و بیش ہر آدمی کے اندر پائی جاتی ہے اور غور و فکر کرنے کے پس پردہ بھی کچھـ اسباب ہوتے ہیں جو انسان کو اس پر آمادہ کرتے ہیں، اس وقت یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ یہاں پائی جانے والی ان رکاوٹوں کا بھی اچھی طرح سے ازالہ کیا جائے جوغور و فکر کرنے میں رخنہ ڈال سکتی ہیں اور غلطی کرنے سے اسے بچا سکتی ہیں تاکہ اچھی طرح سے وہ کام انجام پاسکے۔
غور و فکر کرنے کا یہ جو تصور ہے اس کا تعلق انسان سے ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، یہ عمل دونوں پر یکساں صادق آتا ہے۔ سمجھـ بوجھـ اور تعلیم و تعلم کے میدان میں کسی بھی علمی ریسرچ میں مرد و عورت کے درمیان اختلاف پائے جانے کا ثبوت نہیں ملتا ہے، حِسی اور ذہنی استطاعت میں بھی اختلاف پائے جانے کا ثبوت نہیں ملتا ہے اور نہ ہی دماغ میں پائے جانے والے خلیہ کی تنصیب کاری میں ہی کسی طرح کے اختلاف کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ علم و معرفت حاصل کرنے کے آلیات میں بھی کسی طرح کا اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ اس سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ فطری طور پر مرد و عورت دونوں ہی غور و خوض کرنے میں اور اس کے آلیات کے استعمال میں یکساں ہیں، دونوں میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے پر کسی طرح کی کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے سوائے اس کے جو انفرادی طور پر ان میں فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث کے نصوص مرد و عورت کے ذہنی استطاعت میں کوئی فرق نہیں کرتے، یہ پہلو مرد و عورت کو ایمان کے حوالے سے مخاطب کرنے میں صاف نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھـ ہی ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہاں بہت سارے نصوص ایسے بھی ہیں جن میں عورتوں کی ذہانت، ان کی عقلی استطاعت اور ان کی صوابدید آراء کی جانب متعدد مقامات پر اشارہ کیا گیا ہے، لہذا اگر علمی طور پر مرد و عورت کے درمیان ذہنی استطاعت میں کسی طرح کے اختلاف کا پایا جانا ثابت نہیں ہے، قرآن کریم اور حدیث پاک کے نصوص بھی اس سے نہیں ٹکراتے، تو پھر اس کا مطلب یہی ہوا کہ عقل میں کمی کی جو بات کہی گئی ہے اس سے عقلی استطاعت مراد نہیں ہے۔ جب ہم آیت کریمہ میں غور کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں مذکورہ گواہی کے نصاب کی علت اور اس کی وجہ بھولنے اور اسے یاد دلانے کو بتلایا گيا ہے، اس امر کا تعلق حسی ادراک، اسباب اور موانع سے ہے اور یہ مرد و عورت دونوں میں سے ہرایک پر صادق آتا ہے، لیکن عورت کے اپنے شخصی خصوصیات ہیں بایں طور کہ وہ مختلف حالت سے گزرتی ہے، جسمانی اور نفسیاتی طور پر کچھـ ایسی تبدیلیوں سے بھی دوچار ہوتی رہتی ہیں جو اس کے غور و فکر کرنے کے طریقہ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ عورت جو فیصلہ لیتی ہے اس کے اثرات اس پر بھی مرتب ہوتے ہیں، اس پر مزید یہ کہ عورت مرد کے مقابلے میں کچھـ زیادہ ہی جذباتی ہوتی ہے، جذباتی ہونے والے پہلو کو عقلی طور پر کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے، ممکن ہے کہ یہ جانب کسی بھی طرح کا فیصلہ لینے میں اثر کرے، چاہے وہ شخص جس کے حق میں وہ عورت گواہی دے گی وہ مثال کے طور پر اس کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ معلوم یہ ہوا کہ عقل میں کمی کی جو بات کہی گئی ہے اس کا اشارہ دوسرے اسباب کی طرف ہے ذہنی صلاحیت کی طرف نہیں جیسا کہ ان لوگوں کے ذہن میں یہ بات آتی ہے جو کسی بھی طرح کا حکم صادر کرنے میں جلدبازی سے کام لیتے ہیں، سنجیدگی سے نہیں سوچتے اور نہ ہی اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حدیث پاک کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عقل و دین کی کمی عورتوں میں محدود ہے، اس کو سمجھنے کا ذوق اس شخص کے اندر پایا جاتا ہے جس کے اندر سلیس عربی زبان کے سمجھنے کا ملکہ موجود ہے، کیونکہ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ: کسی قوی مرد کی سمجھـ بوجھـ کو تیزی سے اچکنے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ عقل و دین میں کمی والا کسی دوسرے کو نہیں دیکھا۔ لغوی اعتبار سے اس میں اور اس شخص کی بات میں کیا فرق ہے جو فلسطینی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: دشمن سے نہایت سخت انتقام لینے میں میں نے تم عورتوں سے زیادہ مضبوط دل والا کسی اور کو نہیں دیکھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے مضبوط دل والی عورتیں بہت دیکھی ہیں لیکن دشمن سے نہایت سخت انتقام لینے میں تم جیسا کسی اور کو نہیں دیکھا۔ یہاں سے یہ بات اچھی طرح سے واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کے عقلوں کو اچکنے میں عورتوں سے زیادہ تیز اور کوئی نہیں ہے،اور یہاں اسی کی طرف متنبہ کرنا مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی تو عورتوں نے آپ پر اعتراض نہیں کیا بلکہ وہ آپ کے سامنے خاموش رہیں اور یہ دریافت کرنے میں جلدی کیا کہ ان میں عقل و دین کی کمی کا کیا مطلب ہے۔ اس میں مزید اس کا بھی اضافہ کرلیں کہ تمام عورتوں سے متعلق یہ کہنا (وہ عقل و دین کے اعتبار سے ادھوری ہوتی ہیں) یہ اس حدیث کے خلاف ہے جس میں آتا ہے کہ "مردوں میں بہت سے کامل ہوئے اور عورتوں میں کوئی کمال کو نہ پہنچی سوائے مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم کے" اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی کتاب الانبیاء میں روایت کیا ہے، اور امام ترمذی و امام احمد کی روایت میں چار عورتوں کا ذکر ہے: مریم بنت عمران، آسیہ زوجہ فرعون، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ یہاں سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث میں عقل و دین کی کمی سے مراد اس بات سے تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ عورتوں کے فتنہ میں پڑ کر مردوں کی عقلیں مار کھا جاتی ہیں۔ حدیث کے آخری ٹکڑے پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو لوگوں کے ذہن اور ان کی سمجھـ بوجھـ میں پہلی فرصت میں آتا ہے، بلکہ یہاں عقل کی کمی سے مراد عورت کے حالات و ظروف کی رعایت کرتے ہوئے گواہی میں کمی ہے اور دین میں کمی سے مراد یہ ہے کہ عورت ماہواری (حیض) کے مدت میں نماز چھوڑ دیتی ہے اور اس کی قضاء نہیں کرتی ہے صرف روزے کا قضاء کرتی ہے جیسا کہ عورتوں کے نزدیک یہ بات بہت ہی معروف و مشہور ہے۔ دوسری جانب اگر مناسبت کا اعتبار کرکے دیکھا جائے تو یہ حدیث پاک عیدالفطر یا عیدالاضحی کی مناسبت سے عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہی گئی ہے، تو کیا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریفانہ ذات سے یہی امید کرتے ہیں کہ آپ اس جیسے مناسب موقعوں پر عورتوں کی عزت اور ان کی قدر و منزلت گھٹائیں گے؟! یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس حدیث پاک کی مخاطب جو عورتیں ہیں وہ مدینہ کی بعض خواتین ہیں، اور ان میں سے اکثروبیشتر انصار کی عورتیں ہیں جن کے بارے میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا "ہم قریش کے نوجوان ایسی قوم میں تھے جو عورتوں پر غلبہ رکھتے تھے جب ہم انصار کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ ایسی قوم ہیں جن پر ان کی عورتیں ہی غالب رہتی ہیں تو ہماری عورتوں نے بھی انصاری عورتوں کی عادات اختیار کرنا شروع کردیں"۔ یہ اس پس منظر کو اچھی طرح سے واضح کر رہا ہے جس پس منظر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی ہے "تمہارے علاوہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ دین اور عقل میں ناقص ہونے کے باوجود کسی پختہ عقل والے مرد پر غالب آجائے"۔ اگر اس اسلوب اور بناوٹ پر غور کیا جائے تو اس حدیث کا اسلوب کسی عام قاعدہ کی بنیاد یا کسی عام حکم کو شامل نہیں ہے، بلکہ یہ اسلوب تعجب والے اسلوب سے زیادہ قریب ہے جس سے انصار کی عورتوں میں پائی جانے والی تضاد پر تعجب کا اظہار ہے، کیونکہ وہ ضعیف ہوتی ہیں لیکن پھر بھی بسا اوقات دوراندیش مردوں پر بھی غالب آجاتی ہیں، لہذا یہاں تعجب کا اظہار بھی اللہ رب العالمین کی حکمتوں میں سے ہے، یہیں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں اس مناسبت میں عورتوں سے نرم اسلوب میں بات کرنے کے لئے راہ ہموار کیا اور اس کے لئے بھی دروازہ کھول دیا کہ آنے والے لوگ بھی اس سے نصیحت حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ "عقل و دین کے اعتبار سے ناقص" کہنے والی عبارت ایک ہی ساتھـ کہی گئی دونوں کو الگ مستقل طور پر ثابت کرنے والے اسلوب میں مردوں یا عورتوں کے سامنے نہیں کہی گئی۔ کیا عورت سے متعلق اسلام منفی سوچ رکھتا ہے؟(1)۔ هل للإسلام موقف سلبي من المرأة؟ UR 2
مسلم خاندان -
|