|
ازدواجی زندگی میں افسردگی کا علاج کیسے کریں؟۔ بقلم/ علی دیناری۔۔ ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ازدواجی زندگی کا پہلا مرحلہ سب سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے اس لئے کہ بیوی شوہر میں سے ہر ایک کے احساسات ایک دوسرے کے حق میں پورے زور پر ہوتے ہیں، بیوی اپنے شوہر کی زندگی میں اپنے علاوہ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی اس کے باتوں اورحرکتوں کے ساتھـ ساتھـ اس کی نگاہوں سے بھی سچّائی اور محبّت ٹپکتی ہے۔۔ اور شوہر نام دار کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔
میاں بیوی کے اندر اگر اسی طرح کے احساس ہمیشہ باقی رہیں تو ازدواجی زندگی کا یہ چھوٹا سا گھر کشادہ جنتوں میں تبدیل ہو جائے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو کامیابی و سعادت مندی دوسرے شریک کے سوا کہیں دکھائی نہ دے۔۔۔۔ لیکن زیادہ تر فیملیوں سے یہی اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ کیفیت زیادہ دن تک گھروں، دلوں اور سینوں کے اندر خوشی وسعادت مندی کا جوش و ولولہ ہونے کے باجود بھی برقرار نہیں رہتی۔۔۔ ہم دیکھتے ہیں کہ غالبا ازدواجی زندگی جو دو محبوب کے آپسی علاقات کا نام ہے یہ پیار و محبت اور چاہت سے بدل کر ایک روٹینی علاقات میں آ جاتی ہے اور تقریبا تمام اچّھے جذبات اسی میں سمٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اور ہمیشہ اداسی کا احساس چھایا رہتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیوی شوہر دونوں ایک ملازم کی حیثیت سے اس فیملی میں ایک روٹینی کردار ادا کر رہے ہیں اور گویا کہ بچّے ہی صرف بیوی اور شوہر کے درمیان تعلقات کی جڑ ہیں جو بیوی اور شوہر کو گاہ بگاہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ وہ ابھی تک بیوی اور شوہر کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔
ان دونوں میں سے (غالبا خاوند) تنہا اس طرح کی افسردگی کے علاج کے بارے میں سوچتا ہے جو ازدواجی زندگی میں چھائی ہوئی ہوتی ہے تو وہ ان (مذکورہ) چیزوں کا سہارا لیتا ہے:
1)- اپنا زیادہ تر وقت اپنے گھر اور فیملی سے دور گزارتا ہے اور بسا اوقات کہیں سفر کا پروگرام بناتا ہے یا اپنے کچھـ دوستوں کے ساتھـ رہ کر وقت برباد کرتا ہے اور مختلف قسم کے تسلّی بخش چیزوں کا سہارا لیتا ہے کبھی کبھار یہ چیزیں ناجائز بھی ہوتی ہیں جیسے کہ پتّے (تاش) یا جوا کھیلنا یا نشہ آور چییزیں پینا۔
2)- زیادہ تر وقت اپنے گھر کے اندر ہی گزارنا لیکن گھریلو ماحول سے کوسوں دور رہ کر وہ اس طرح کہ تسلّی دینے والے بعض وسائل کا سہارا لینا جو وقت کو مکمل طور پر برباد کرتے ہیں جیسے کہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ کے ذریعہ چاٹنگ کرنا، یا سیریل، ٹی وی پر آنے والی فلمیں اور ڈش وغیرہ کے پیچھے وقت برباد کرنا۔
3)- اپنے کام میں اس قدر منہمک ہو جانا کہ وہ شعور و احساس بھی باقی نہ رہے جس کا شوہر اور بیوی کے درمیان پایا جانا بہت ضروری ہے، یہاں تک کہ گھر کے اندر کی آپسی گفتگو صرف اخراجات اور گھریلو ضروریات میں ہو کر رہ جائے۔
4)- دوسروں کی غلطیاں اور لغزشات کے چکّر میں موقع کی تلاش میں رہنا، اور اسی طرح دوسروں کی تصرفات پر بے جا تنقید کرنا جو مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں اور خاندان کی بقا کے لئے سنگین نتائج کی دھمکی بھی ہو سکتی ہیں بلکہ بسا اوقات پورے خاندان کی تباہی و بربادی کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
5)- بسا اوقات بعض لوگ (خصوصا شوہر حضرات) گھریلو حالات کی مزید سدھار اور اس کی ترقی کے لئے دوسرے ملک میں کام کرنے کا موقع تلاش کرتے ہیں حالانکہ وہ حقیقت میں اپنی زندگی میں بھری ہوئی اداسی کو ختم کرنے کے لئے کسی سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
6)- بعض شوہر خاص طور پر جو مال دار ہیں وہ سوچتے ہیں کہ یہ اداسی جو اس کی زندگی میں چھائی ہوئی ہے اس کا حل اور اس سے نجات پانے کا بہتر راستہ دوسری یا تیسری شادی کرنے میں ہے۔
7)- بعض حالات میں بسا اوقات شوہر ازدواجی زندگی سے چوری چھپے ناجائز تعلقات بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا غیر منصفانہ رویّہ اختیار کرتے ہیں۔
پھر اس کا علاج کیسے ممکن ہے؟
سب سے پہلے تو ہم یہ کہیں گے کہ افسردگی کا علاج بہت ہی آسان ہے اگر بیوی اور شوہر کے اندر حقیقت میں ایسی اداسی کو ختم کرنے کی چاہت ہے جو گھریلو زندگی میں چھایا ہوا ہے اور ایک دوسرے کی خوشیوں کو ملیا میٹ کر رہا ہے، کیونکہ ازدواجی زندگی میں فعّالیت اور نشو ونما کو واپس لانے کی چاہت ان میں سے ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرنے پر اور اپنی زندگی میں پائی جانے والی کوتاہیوں پر غور و فکر کرنے پر مجبور کرے گی اور بذات خود اپنی شریک حیات کے لئے کوئی عذر تلاش کرے گی۔ اور ایسے ذرائع تلاش کرے گی جو دونوں کے درمیان پیار و محبت اور چاہت کے جذبات کو ابھار سکے۔ اور مناسب ہے کہ ہم یہاں بعض ان وسائل کا ذکر کریں جو ازدواجی زندگی سے افسردگی اور اداسی کو ختم کرنے میں مددگار ہیں، انہیں میں سے چند درج ذیل ہیں:
1)- آپس میں ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ شوہر اور بیوی کے لئے بہت ہی با معنی ہو گی۔ عید کے کارڈ پر اپنی شریک حیات کے لئے جو چند محبت بھرے الفاظ آپ لکھیں گے اس کا بیوی پر بہت ہی اچھا اثر ہوگا۔
2)- بیوی اور شوہر کے مشغولیات جیسے بھی ہوں ضروری ہے کہ وہ دونوں ایک ساتھـ بیٹھنے کے لئے ایک وقت متعین کریں جس میں وہ دونوں اپنے خاص چیزوں کے بارے میں بات کریں اور ایک دوسرے سے پیار و محبت کا اظہا کریں اور اپنی شریک حیات کے لئے کتنا زیادہ تحفے تحائف کی خواہش رکھتا ہے اوراس کے تیئیں کتنا سوچتا ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں ازدواجی زندگی کے بہت سارے روٹینی چیزوں سے نجات دلا سکتی ہیں۔
3)- ملاقات کے وقت اور الوداع کہنے کے وقت خوب گرم جوشی کے ساتھـ ایک دوسرے کو مبارکباد دینا، یہ جدائی چاہے ایک لمبے عرصے کے لئے ہو یا کم مدت کے لئے ہو روزانہ صبح کے وقت کام پر جانے سے پہلے اور گھر لوٹنے کے وقت بھی، کیونکہ ایک پیار بھرا چھوٹا سا بوسہ یا دھیرے سے چھونا یا معمولی طور پر گلے لگانا بسا اوقات طرفین میں سے ہر ایک کے لئے بہت معنی خیز ہوتا ہے اوردوسرے کی نگاہ میں اس کی اہمیت و قدر ومنزلت کا احساس دلاتا ہے۔
4)- بیوی اور شوہر میں سے ہر ایک کا دوسرے کی خاص طور پر اعزاء و اقارب کے سامنے تعریف کرنا، ان دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے حق میں بغیر کسی کمی یا زیادتی کے معتدل انداز میں غیرت کا احساس کرنا کیونکہ یہ دوسرے کو سعادت مندی کا احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کی نظر میں بہت ہی گراں قدر ہے۔
5)- بیوی یا شوہر میں سے ہر ایک کا اپنے شریک حیات کے ساتھـ ہونا جب کوئی ایسی صورت حال درپیش ہو جس میں مزید توجہ یا حسّی یا معنوی دیکھـ بھال کی ضرورت ہو جیسے کہ ان دونوں میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو دوسرے کی طرف سے خاص توجہ پائے یا بیوی امید سے ہو تو اپنے شوہر کی طرف سے اس کے صحت اور حمل کا خاص اہتمام پائے اور بیوی کے بدلے خود ہی بعض کام کر لیا کرے، اور اسی طرح جب شوہر کسی بھی طرح کی پریشانی سے دوچار ہو تو اپنی بیوی کی طرف سے ہمدردی اور اس کا اہتمام پائے۔
6)- بیوی اور شوہر میں سے ہر ایک کا ہمیشہ کچھـ عرصہ کے بعد کسی طرح کی تبدیلی کی کوشش کرنا مثال کے طور پر لباس میں یا بیوی کے حق میں میک اپ یا ان دونوں میں سے ہر ایک کا اپنے پرفیوم میں کوئی تبدیلی لانا یا بیوی کا اپنے بال کی چوٹی کرنے میں کوئی ادا دکھانا، بلکہ بسا اوقات گھریلو سازوسامان کی تبدیلی بھی اس کے لئے معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
7)- گھریلو اور روٹینی ماحول سے دور رہ کر جو عام طور پر اداسی کا سبب بنتے ہیں چھٹیوں کے دنوں میں خود تفریح کر کے بھر پور فائدہ اٹھانا اور خاص طور پر دونوں کا ایسی جگہ جا نا جہاں سے ان کی خوبصورت یادیں وابستہ ہوں۔
8)- بیوی اور شوہر میں سے کسی کا بھی پڑھے ہوئے چٹکلے اور لطیفے سنانا جب تک کہ وہ چٹکلے ادب کے دائرے میں ہوں کیونکہ اس طرح کی مسکراہٹ سے بھی ازدواجی زندگی میں اچھا اثر پڑتا ہے۔
9)- ہٹ دھرمی اور جمود کا چھوڑنا۔۔۔۔ اور ان دونوں (میاں بیوی) میں سے ہر ایک کا ایک دوسرے کی رائے کے قریب آنا، شاید کہ یہ زندگی کا خوبصورت اور خوشگوار پہلو بن جائے کہ بیوی اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کا احساس کرے۔
10)- اپنی قرار کو ہردم ترجیح نہ دینا، کیونکہ شوہر کا اپنی بیوی سے مشورہ کرنا ان چیزوں میں جس کا تعلق گھریلو معاملات سے ہو یا بچوں کے مستقبل سے متعلق ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا گھریلو ماحول پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
11)- خود غرضی کا چھوڑنا، کیونکہ سعادت مندی کے اسباب میں سے یہ نہیں کہ دونوں (بیوی و شوہر) میں سے کوئی ایک دوسرے سے یہ امید لگا کر بیٹھا رہے کہ وہ اس کو خوش کرنے کے لئے محنت صرف کرے اور ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ اس کے دل کو مسرت و شادمانی پہونچائے اور دوسرا اپنی جانب سے کچھـ بھی نہ کرے۔
دلی خواہشات کے ساتھـ کہ ازدواجی زندگی سدا اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزرے اور گناہوں سے دور رہے۔ كيف نعالج الملل في الحياة الزوجية UR
مسلم خاندان -
|