English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: روزے دار كا بواسير وغيرہ كے ليے مرہم اور كريم استعمال كرنا - فتوے -: کسی شخص نے فجرکے بعد یہ گمان کرکے کہ ابھی اذان نہیں ہوئی سحری کھا لی اس کا کیا حکم ہے؟۔ - فتوے -: چاند ديكھنے كا حكم - فتوے -: سيكسى سوچ كے نتيجہ ميں منى كا انزال ہونے سے روزہ باطل ہو جائيگا؟۔ - فتوے -: روزے كى حالت ميں ناك كے ليے سپرے استعمال كرنا - نخلستان اسلام -: فصل کاٹنے کا وقت قریب آگیا - نخلستان اسلام -: نجات کی کشتی قریب آگئی -  
ووٹ ديں
مغرب کی اسلام دشمنی کے اسباب میں سے ہے؟
اسلام اور مسلمانوں سے نفرت
صحیح اسلام سے عدم واقفیت
تطبیق اسلام کی صورت میں غیراخلاقی خواہشات پر پابندی
تمام سابقہ اسباب
سابقہ را? عامہ
نخلستان اسلام -

اسراء و معراج کے سائے میں

بقلم: تراجی الجنزوری۔۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن الترمذی میں روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "شب معراج میں میری ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ: اے محمد! اپنی امت کو میرا سلام پہنچادیجئے اور ان سے کہہ دیجئے کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ہموار میدان ہے، اس کے درخت سبحان اللہ والحمد للہ ولاالھ الا اللہ واللہ اکبر ہیں۔ تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ۔

اے میرے حبیب:

آپ نے کتنے بےشمار درخت لگائے؟۔

آپ نے کتنے بےشمار کھجور لگائے؟۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمہ وقت اللہ رب العالمین کا ذکر کرتے رہتے تھے خوشحالی و فارغ البالی میں ، ابتلاء وآزمائش کے وقت بھی ۔۔۔ تنگی کی حالت میں اور آسانی کی حالت میں بھی غرضیکہ ہر حال میں وہ اللہ کا ذکر کرتے تھے اٹھتے بیٹھتے کروٹ بدلتے ہرہروقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔

اللہ رب العالمین کا ذکر کرنا یہ اس کی زمین میں اللہ کی جنت ہے۔۔۔ جو شخص اس میں داخل نہ ہوسکا وہ آخرت کی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ اللہ رب العالمین کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے اسی سے نفس کو سکون ملتا ہے اسی سے سینوں کو ٹھنڈک پہنچتی ہے یہی مجاہدین کے لئے زاد راہ ہے ارشاد باری تعالی ہے: )يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُواْ وَاذْكُرُواْ اللّهَ كَثِيراً لَّعَلَّكُمْ تُفْلَحُونَ) (الانفال:45): (اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑجاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو)۔ تمہارا اللہ رب العالمین کا ذکر کرنا یہ تمہاری اس سے محبت کی دلیل ہے "جب آپ اللہ رب العالمین کے پاس اپنا مقام ومرتبہ جاننا چاہیں تو یہ دیکھیں کہ آپ کو کس حال میں رکھا ہے"۔ تمہارا اس کا ذکر و اذکار کرنا۔۔۔ اس کا تمہیں یاد کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے (فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ) (البقرہ:152): (تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا)۔

ذکرواذکار کرنے والوں کا پہلا درجہ:- ارشاد باری تعالی ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً) (الاحزاب:41): (مسلمانو! اللہ تعالی کا ذکر بہت زیادہ کرو)۔

درمیانی درجہ:- ارشاد باری تعالی ہے: (وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلاً) (الاحزاب:42): (اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو)۔

اس کا آخری درجہ:- ارشاد باری تعالی ہے: (هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّور) (الاحزاب:43): (وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے)۔

اللہ رب العالمین کا ذکر مشکل گھڑی میں معاون ومددگار ہے: ارشاد باری تعالی ہے: (وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ) (الحجر:97): (ہمیں خوب علم ہے کہ ان باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے)۔ پھر اس کا علاج۔۔۔ ارشاد باری تعالی ہے: (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ) (الحجر:98): (آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوجائیں)۔

یکسو ہونے والے سبقت کرگئے:-

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اللہ کے مقرب بندوں میں شامل ہوجائیں۔۔۔ یا دائیں ہاتھـ والوں میں شامل ہو جائیں۔۔۔ پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو۔۔۔ یہ اس دن "جب قیامت قائم ہوجائے گی"۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا  نامہ اعمال آپ کے داہنے ہاتھـ میں ملے۔۔۔ تو اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو۔۔۔ اور وہ دن ثابت ہونے والا ہے کیونکہ یہی نیکیاں باقی رہنے والی ہیں۔۔۔ اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ شب و روز میں بارہ ہزار (12000) مرتبہ  اللہ رب العالمین کا ذکر کرتے تھے۔۔۔ اور کہتے تھے: "یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے"۔ ان لوگوں کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔۔۔ وہ آدمی جس نے اللہ رب العالمین کو تنہائی میں یاد کیا تو اس کی آنکھیں بھرآئیں، لہذا ذکر کا تقاضا یہ ہے کہ زبان کے ساتھـ ہی ساتھـ دل بھی ذکر کرتا ہو۔۔۔ یعنی عملی طور پر اس کی تنفیذ بھی کرتا ہو۔۔۔ جس کے نتیجے میں اللہ کے سوا ہرچیز سے آدمی منقطع ہوجائے۔۔۔ ہر طرح کی مشغولیات سے اللہ کے لئے خالص ہوجائے۔۔۔ اللہ رب العزت کے حضور اپنی تمام تر احساسات کے ساتھـ حاضر ہو۔۔۔ کیونکہ جسم کی طہارت پانی سے ہے اور دل کی طہارت غیراللہ سے کٹ کر اللہ سے لو لگانے میں ہے۔

لہذا اگر تم ایسا کرسکتے ہو کہ اللہ رب العزت کی طرف تم سے کوئی سبقت نہ لے جاسکے تو ایسا ضرور کرو۔

من وحي الإسراء والمعراج .. ولذكر الله أكبر UR



نخلستان اسلام -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت