|
نجات کی کشتی قریب آگئی بقلم/ تراجى الجنزوري۔۔ رمضان کی بھینی بھینی خوشبو آتے ہی بندہ نجات کی اس کشتی کے قریب آنے کا احساس کرنے لگتا ہے جس کا وہ ہر سال انتظار کرتا ہے۔۔۔ اس میں اپنی گناہوں کا بوجھـ ہلکا کرتا ہے، دنیا کے چنگل اور اس کے تھپیڑے مارتے ہوئے موجوں سے چھٹکارا پانے کے لئے وہ توانائی تلاش کرتا ہے، حقیقت میں ہم رمضان میں نجات کی کشتی پر اس وقت تک سوار نہیں ہو سکتے ہیں جب تک کہ نجات پانے کے لئے اس کے مقدمات اور نشانیوں سے اچھی طرح فائدہ نہ اٹھالیں۔ جس شخص نے ماہ شعبان میں بہترین زاد راہ حاصل نہیں کیا تو نجات کی کشتی اس کے ہاتھوں سے جاتی رہے گی۔۔۔ لہذا ہمارے لئے بہتر ہے کہ ہم لوگ ماہ شعبان سے اچھی طرح سے فائدہ اٹھائیں۔
ماہ شعبان یہ رمضان کے لئے عبوری دروازہ ہے۔۔۔ اگر آپ ماہ شعبان کے دروازے سے اچھی طرح نکلے تو ماہ رمضان کا ثمرہ اچھی طرح سے محسوس کریں گے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ماہ رجب داخل ہوتا تو فرماتے: "اے میرے پروردگار! ماہ رجب و شعبان میں ہمارے لئے برکت دے اور ماہ رمضان میں ہمارے لئے برکت دے" (یہ حدیث ضعیف ہے)۔ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث پاک میں اس طرح مستحب دعاء کرنے کی دلیل پائی جاتی ہے وہ یہ کہ بندہ دعاء کرے کہ وہ ایک اچھے زمانے تک زندہ رہے تاکہ اس میں نیک اعمال کرسکے۔۔۔ کیونکہ ایک مؤمن کی عمر میں برکت و زیادتی یہ باعث خیر ہی ہوتی ہے۔ احمد البنا اپنی کتاب "بلوغ الامانی" میں رقمطراز ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان تین مہینوں کے لئے خاص کر دعاء کرنا یہ ان کے افضل ہونے کی دلیل ہے اور ماہ رمضان کے دعاء کے لئے الگ سے اسے خاص کرنا اور ماہ رجب و شعبان پر اس کو عطف نہ کرنا یہ مزید ماہ رمضان کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سکھلاتے ہیں: دعوت و تبلیغ میں اس قدر مشغول ہونے اور اللہ رب العالمین کے نزدیک اس قدر بلند و بالا مقام ہونے کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھـ کر ماہ رمضان کی تیاری کرتے تھے۔۔۔ تاکہ نفس بآسانی اس کو قبول کرسکے اور اخلاق کی بھی تربیت ہوجائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر روزہ رکھتے تھے کہ ہم لوگ یہ کہتے تھے کہ اب روزہ رکھنا ہی نہیں چھوڑیں گے اور جب روزرہ نہیں رکھتے تھے تو ہم لوگ یہ کہتے تھے کہ اب آپ روزہ ہی نہیں رکھیں گے۔۔۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا پورا روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اسی طرح سے ہم نے آپ کو ماہ شعبان سے زیادہ کسی دوسرے مہینہ میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا" (صحیح بخاری:1833)۔ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ماہ شعبان کا روزہ حرمت والے مہینوں کے روزوں سے افضل ہے۔۔۔ سب سے افضل نفلی روزہ وہ ہے جو رمضان سے بالکل قریب ہو چاہے اس سے پہلے ہو یا اس کے بعد ہو۔۔۔ ان روزوں کا مقام فرض نمازوں سے پہلے یا بعد والے سنت مؤکدہ کی طرح ہے۔۔۔ یہ فریضہ میں کسی طرح کی کمی یا خلل کے پورا کرنے کی جگہ ہے۔۔۔ اسی طرح سے رمضان سے پہلے یا بعد کے روزے بھی ہیں۔۔۔ جس طرح سے سنت مؤکدہ مطلق نفلی نماز سے افضل ہے اسی طرح سے ماہ رمضان سے پہلے یا بعد کے روزے ان روزوں کے مقابلے میں افضل ہیں جو ماہ رمضان سے کافی پہلے یا کافی بعد میں ہوں"۔ لہذا اے برادران اسلام! اپنے قرآن کریم کی طرف واپس ہوجاؤ، یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے اس کی تلاوت کرتے ہیں اور تیاریاں کرتے ہیں۔ آگے بڑھو! درمیان شب محراب کی طرف قدم بڑھاؤ آگے بڑھو! اپنے مال سے زکوۃ ، صدقہ و خیرات کرو سخاوت والا مہینہ آنے سے پہلے اپنے آپ کو سخاوت کرنے کا عادی بناؤ اپنے والدین کے ساتھـ صلہ رحمی کرو اگر تم چاہتے ہو کہ نجات کی کشتی میں سوار ہوسکو تو لوگوں کے ساتھـ احسان کرو۔۔۔ کیونکہ تیاری کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ماہ شعبان میں تیاری کرنے کا موقع ضائع نہ کرو ورنہ ماہ رمضان میں اللہ رب العالمین کے عطیہ سے اپنے آپ کو محروم کرلوگے، خوشخبری و شادمانی ہے اس شخص کے لئے جس نے رمضان سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرلی۔ واقتربت سفينة النجاة UR
نخلستان اسلام -
|