الحمد للہ، علماء كى ايك جماعت رمضان كى پہلى رات چاند ديكھنے كو واجب قرار ديتى ہے، اور اگر كوئى شخص بھى اس رات چاند نہ ديكھے تو سب لوگ گنہگار ہونگے، يہ احناف كا قول ہے۔
اور بعض فقھاء كہتے ہيں كہ چاند ديكھنا مستحب ہے۔ اور الفتاوى الھنديۃ ميں ہے: "انتيس شعبان كو مغرب كے وقت لوگوں كے ليے چاند ديكھنا واجب ہے، اگر تو انہيں چاند نظر آ جائے تو ہ روزہ ركھيں، اور اگر آسمان ابر آلود ہو تو وہ شعبان كے تيس يوم پورے كر ليں" (الفتاوى الھنديۃ:1/197)۔ اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مرفوعا ثابت ہے كہ: (رمضان كے ليے شعبان كا چاند تلاش كرو) (حسن، ترمذى:687)۔ تحفۃ الاحوذى ميں مباركپورى رحمہ اللہ كہتے ہيں: "ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں: يعنى چاند كو مطلع جات اور اس كى منازل ميں تلاش كر كے اسے شمار كرو اور احاطہ ضبط ميں لاؤ، تا كہ تم حقيقى طور پر رمضان كے چاند كو پانے ميں بصيرت پر رہو، اور اس ميں سے كچھ رہ نہ جائے" (تحفۃ الاحوذى:3/299)۔ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چاند ديكھنے پر ابھارا ہے، اسى سلسلہ ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (روزے چاند ديكھ كر ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى عيد الفطر مناؤ، اور اگر آسمان ابر آلود ہو تو پھر شعبان كے تيس روز پورے كرو) (البخارى:1909)۔ اور عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: (مہينہ انتيس راتيں ہيں، تم چاند ديكھے بغير روزہ نہ ركھو، اور اگر آسمان ابر آلود ہو تو پھر تيس پورے كرو) (البخارى:1907)۔ پہلى حديث نے رمضان كے روزے چاند ديكھ كر يا پھر شعبان كے تيس روز پورے كرنے كے بعد روزے ركھنے واجب كيے، اور شوال كا چاند ديكھ كر يا پھر رمضان كے تيس روزے پورے كرنے كے بعد عيد الفطر منانى واجب كى اور دوسرى حديث نے رمضان المبارك كا چاند ديكھنے، يا پھر شعبان كے ايام پورے كرنے سے قبل روزہ ركھنا منع كيا ہے۔ اور احناف نے تيس شعبان كى رات كو رمضان كا چاند ديكھنا فرض كفايہ قرار ديا ہے، اگر وہ ديكھ ليں تو روزہ ركھيں، وگرنہ وہ شعبان كے تيس ايام پورے كريں؛ كيونكہ جس كے بغير فرض پورا نہ ہوتا ہو تو وہ بھى واجب اور فرض ہوتا ہے۔ اور حنابلہ كہتے ہيں: روزہ كى احتياط اور اختلاف سے اجتناب كے ليے چاند ديكھنا مستحب ہے، اور اس مسئلہ ميں ہميں مالكيہ اور شافعيہ كى كوئى صراحت نہيں ملى۔ ظاہر تو يہى ہوتا ہے كہ رمضان اور شوال اور ذوالحجہ كا چاند ديكھنا فرض كفايہ ہے، كيونكہ اس كے ساتھ اركان اسلام ميں سے دو ركن روزہ اور حج كا تعلق ہے۔ واللہ اعلم هل يجب ترائي الهلال؟. UR |