English - عربي
  صفحہ اول ويب سائٹ ہم سے رابطہ زائرين کا ريکارڈ
  فتوے -: روزے دار كا بواسير وغيرہ كے ليے مرہم اور كريم استعمال كرنا - فتوے -: کسی شخص نے فجرکے بعد یہ گمان کرکے کہ ابھی اذان نہیں ہوئی سحری کھا لی اس کا کیا حکم ہے؟۔ - فتوے -: چاند ديكھنے كا حكم - فتوے -: سيكسى سوچ كے نتيجہ ميں منى كا انزال ہونے سے روزہ باطل ہو جائيگا؟۔ - فتوے -: روزے كى حالت ميں ناك كے ليے سپرے استعمال كرنا - نخلستان اسلام -: فصل کاٹنے کا وقت قریب آگیا - نخلستان اسلام -: نجات کی کشتی قریب آگئی -  
ووٹ ديں
مغرب کی اسلام دشمنی کے اسباب میں سے ہے؟
اسلام اور مسلمانوں سے نفرت
صحیح اسلام سے عدم واقفیت
تطبیق اسلام کی صورت میں غیراخلاقی خواہشات پر پابندی
تمام سابقہ اسباب
سابقہ را? عامہ
ہمارے بارے ميں -

۔(1) ہم کون ہیں؟!!۔

ان تمام لوگوں کے لئے جو ہمیں نہیں جانتے۔

ان لوگوں کے لئے جو ہمیں کسی حد تک تو جانتے ہیں لیکن بڑی حد تک نہیں جانتے۔

ان لوگوں کے لئے جو ہمارے بارے میں صرف وہ کچھـ جانتے ہیں جسے دوسرے لوگ الاپتے رہتے ہیں۔

ہم (ان تمام لوگوں کے لئے) یہ سطریں بطور تحفہ پیش کر رہے ہیں۔

ہم کون ہیں؟ اور کیا چاہتے ہیں؟۔

غالبا آپ بھی ہم سے دریافت کرنا چاہتے ہیں جس طرح آپ سے پہلے بہت سے لوگوں نے ہم سے دریافت کیا اور جس طرح آپ کے بعد آنے والے بہت سے لوگ ہم سے دریافت کرتے رہینگے کہ آپ لوگ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟۔

شاید آپ ان امور کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے دوسروں سے ہمارے سلسلے میں سنا ہے- یا نشریات کے ذریعہ جو خبر اور تبصرے پر مشتمل ہوتی ہیں ان کا جائزہ لیا ہے اور پھر آپ کے ذہن میں ہماری ایک تصویر بن گئی ہے تو اب آپ چاہتے ہیں کہ اس کی حقیقت معلوم کریں۔

 کیا یہ بگڑی ہوئی مسخ شدہ تصویر ہے جو حقیقت سے عاری اور اس کے بر عکس ہے؟۔

یا پھر یہ ہماری صحیح حقیقت اور ہمارے مزاج کی سچی ترجمانی کرنے والی ہے؟۔

غالبا آپ یہ سوال کرینگے۔۔۔ اور آپ کی طرح بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں جب جب کسی اٹھتے ہوئے نوجوان کو دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنے آپ کو معصیتوں اور خواہشات نفسانی کی نجاست سےنکال لیا ہے۔۔۔ اور جب دیکھتے ہیں کہ کسی دوشیزہ نے اپنے لئے پاک دامنی اور طہارت کو پسند کرلیا ہے اور لوگوں سے اپنے جسم کی ستر پوشی کرلی ہے - اور اپنے آپ کو شکوک وشبہات سے دور رکھنے لگی ہے۔

اسی طرح جب آپ نوجوانوں کی ایک جماعت کو دیکھتے ہیں جنہیں ایمان نے یکجا کیا اور پھر وہ آپس میں متعارف ہوئے ایک دوسرے سے ملے، تعاون کیا اور بغیر کسی ذات پات حسب نسب اور دنیوی مفاد کے متحد ہوئے۔۔۔ تو آپ لوگوں نے تعجب کے ساتھـ فورا یہ دریافت کرنا شروع کردیا۔۔۔ کہ آپ لوگ کون ہیں؟ اور آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔

سوال کرنے والوں کے ساتھـ آپ بھی ضرور سوال کریں گے جب بھی ایسے لوگوں کے بارے میں سنیں گے جو جوانی کی عمر میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دئے گئے اور پھر وہاں سے وہ اس وقت نکالے گئے جب ادھیڑ عمر کو پہنچ چکے تھے – ان لوگوں نے اللہ کے فیصلے پر رضا مندی ظاہر کی اور راضی برضا رہے – اللہ کے لئے صبر کیا۔۔۔ حق سے محبت کی اور اسے پہلے سے بھی کہیں زیادہ مضبوطی سے پکڑ لیا صحیح دین کی جانب آگے بڑھے۔۔۔ اللہ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کی، نہ تو ان کے نفس میں کسی قسم کی کمزوری آئی اور نہ ہی ان کی عزیمت میں کمی آئی۔

اورنہ ہی حق کے سلسلے میں ان کی ہمت پست ہوئی، آپ لوگ کون ہیں؟ اور آپ کیا چاہتے ہیں؟۔

میرے عزیز اور مکرم بھائی۔۔۔ آپ کے لئے اور ان تمام لوگوں کے لئے جو ہمارے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یہ تعارفی کارڈ پیش خدمت ہے۔۔۔ آئیے ہم سب مل کراس کو ایک ساتھـ کھولتے ہیں تاکہ اس کے صفحات پر نظر ڈالیں۔۔۔

ہم کون ہیں؟!۔ اور ہم کیا چاہتے ہیں؟!۔

میرے پیارے بھائیو۔۔۔ ہم اسلام کے فرزندوں کی ایک جماعت ہیں۔۔۔ ہم اپنی امت کی غفلت کے وقت اپنے رب کریم کی اس پکار پر متنبہ ہوئے۔۔۔ (أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ) (التوبہ:38) یعنی: (کیا تم لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی پر راضی ہوگئے- دنیا کی زندگی کا ساز وسامان آخرت کے مقابلے میں بہت کم ہے-) تو ہمیں معلوم ہوا کہ دنیا کو زوال اور آخرت کو بقا ہے۔۔۔ اور کل کے روز ہم سب سے کثیر وقلیل اور رتّی وماشے کے بارے میں پوچھا جائیگا۔۔۔ لہذا ہم نے راہ نجات اور خلاصی کے راستے کی تلاش شروع کی تو ہم نے اسے خدائے رحمان کی اس پکار میں پایا (اسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَا لَكُم مِّن مَّلْجَأٍ يَوْمَئِذٍ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٍ) (الشورى:47) یعنی: (اپنے رب کا حکم مان لواس سے پہلے کہ اللہ کی جانب سے وہ دن آئے جس کا ہٹ جانا ناممکن ہے، تمہیں اس روز نہ تو کوئی جگہ ملے گی نہ چھپ کر انجان بن جانے کی)۔ اور ہم نے جانا کہ خدائے رحمان کی محبت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔۔۔ اور ذلت وخواری سے نجات صرف اس میں ہے کہ اللہ کے حکم کو قبول کیا جائے اور اس کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کردیا جائے۔۔۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ اس راستے کی پہلی منزل اللہ کی معرفت اس کی وحدانیت۔۔۔ اور اس کے حکم کی اطاعت۔۔۔ اور اس کی شریعت کی پیروی سے حاصل ہوسکتی ہے  تو ہم نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھـ یہ کہا: (قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ) (الأنعام:162) یعنی:(کہو بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے) ہم آگے بڑھے اور اللہ کی راہ پر چلنے لگے۔۔۔ اللہ تعالی سے ملاقات کے لئے زاد راہ تیار کرنے لگے۔۔۔ اس دنیائے فانی سے بے رغبتی کا اظہار کرتے ہوئے۔۔۔ اور اللہ کے پاس جو کچھـ ہے اس کو ترجیح دیتے ہوئے۔۔۔ (وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ) (آل عمران:198) یعنی: (اورجو کچھـ اللہ کے پاس ہے وہ نیکو کاروں کے لئے بہتر ہے)۔

دنیا نے ہمیں اپنی شہوتوں اور زیب وزینت کے ذریعہ کھینچنا چاہا تو ہم نے اللہ کی خاطر علی الاعلان کہا: (وَالآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى) (الأعلى:17) (اور آخرت زیادہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے) ہمیں معلوم ہوا کہ سعادت مندی ساری کی ساری اللہ کی رضا مندی اور خوش نودی کے حصول میں ہے اور یہ تمام نعمتوں میں سب سے زیادہ عظیم ہے یہاں تک کہ جنت کی نعمتوں پر بھی اسے فوقیت حاصل ہے۔۔۔ (وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ) (التوبہ:72) یعنی: (اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی ہے) ہم نے پورے اخلاص کے ساتھـ اس کی خوش نودی اور رضا مندی حاصل کرنے کی راہ میں کوشش کرنے اور اس کے نبی کی پیروی کا عزم وارادہ کیا۔

اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے اخلاص کو خاص کرلیا تو اب اس کے ساتھـ ظاہر وباطن میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔۔۔ اور نہ ہی شریعت اور اس کے شعائر میں کسی اور کو داخل کریں گے۔ وہی تو ہے جس نے حدیث قدسی میں فرمایا: (میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں – جس نے کوئی کام کیا اور اس نے میرے ساتھـ میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا تو میں نے اسے اور اس کے شرک کو ترک کردیا)۔(صحيح مسلم/5300)۔

اسی طرح ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قلیل وکثیر میں پیروی فرض ہے۔۔۔ اس لئے کہ بہترین ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہدایت ہے۔۔۔ (وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا) (الحشر:7) یعنی: (اور جو کچھـ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تم کودیا ہے اسے لے لو اور جس سے تم کو منع کیا ہے اس سے رک جاؤ)۔۔۔ سارے راستے مخلوق کے آگے بند ہیں سوائے اس کے جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نقش قدم کی پیروی کی تو خیر وبھلائی کے سارے دروازے اس کے لئے کھلے ہوئے ہیں اس کے لئے قانون سازی کرتے ہوئے- اور اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں - انھیں کا تو ارشاد ہے (جس نےکوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم پورا نہیں اترتا تو وہ مردود ہے) (صحيح البخاري:2550) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (آگاہ ہو جاؤ! لوگ میرے حوض کی طرف سے ہٹائے جائیں گے جبکہ میں کہوں گا بڑھتے آؤ۔۔۔ کہا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بعد تبدیلی کردی تھی۔۔۔ تو میں کہوں گا: دور ہوجاؤ دور ہو جاؤ) (صحيح البخاري:6643)۔

ہم اللہ کی راہ پر چل پڑے۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابۂ کرام کے عقیدے کے ساتھـ ؛ اس عقیدے کے ساتھـ جس نے اس امت کی پہلی نسل کو بنانے کا کام کیا جس نے انھیں دنیا وآخرت کا آقا وسرکار بنادیا ۔۔۔ اس عقیدے کے ساتھـ جس نے ابوبکر وعمر۔۔۔ عثمان وعلی۔۔۔ خباب وبلال۔۔۔ عمار ویاسر رضی اللہ عنہم کی سیرت سازی کی ۔۔۔ اس عقیدے کو لے کر آگے بڑھے جس نے خدیجہ و عائشہ۔۔۔ سمیہ وام عمارہ کی سیرت سازی کی۔۔۔ اس عقیدے کے ساتھـ جو اپنے رب کی جانب دلوں کو کھینچ لیتا ہے۔۔۔ اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔۔۔ ربوبیت میں اسی کی وحدانیت کا، الوہیت میں توحید کا، اور اسمائے حسنی وصفات عالیہ میں یکتائی کا اعلان کرتا ہے۔۔۔ اس عقیدے کے ساتھـ جو چودہ صدیوں تک اپنی جگہ ڈٹا رہا۔۔۔ کافروں کے بے شمار حملوں کے با وجود منافقوں کی طرف سے اٹھائے گئے شکوک وشبہات کے باوجود۔۔۔ بدعتیوں کی تحریف وتاویل کے باوجود۔۔۔ یہ عقیدہ اپنی جگہ باقی رہا۔ باوجود اس کے کہ خود اس دین کے بہت سے ماننے والوں کی طرف سے اس کے تئیں تقصیر وکمی ہوتی رہی۔۔۔ اس کے حق میں ان کی طرف سے حقارت کا اظہار ہوتا رہا۔۔۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو ہمارے لئے اس عقیدے کو راسخ کرتا ہے جس کو بنیاد بناتے ہوئے ہم اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتے ہیں۔۔۔ یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالی ہی معبود حقیقی ہے۔۔۔ وہی مالک ہے اور اسی کے لئے کمال کی تمام صفات ہیں۔۔۔ اللہ ہی ہمارا مقصود ہے اس کے پیچھے ہماری اور کوئی غرض وغایت نہیں۔۔۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو امت کو اختلاف کی صورت میں اللہ اور اسکے رسول کی جانب لوٹاتا ہے (فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً) (النساء:59) یعنی: (پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے)۔

اور یہ اس طرح فکر وخیال کو متحد کرتا ہے۔۔۔ فرقہ بندی اور اختلاف کے اسباب کو ختم کرتا ہے صف بندی کوتقویت پہنچاتا ہے۔۔۔ منزل کو واضح کرتا ہے۔۔۔ مقصد کا تعین کرتا ہے اور راستے کی حد بندی کرتا ہے۔۔۔ مومنوں کو ایک پلیٹ فارم اور صراط مستقیم پر جمع کرتا ہے۔۔۔

یہ ایسا عقیدہ ہے کہ جس پر ایمان لانے والوں کے گھر بار کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں ان کا ملک ووطن چاہے جہاں ہو ان کی قومیت میں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو ان کا رنگ کچھـ بھی ہو آپ انھیں ان تمام اختلافات کے باوجود دیکھیں گے کہ یہ سب کے سب ایک ہی مقصد کے لئے کوشاں ہیں۔۔۔ ایک ہی شریعت کے لئے کام کر رہے ہیں۔۔۔ اور ایک ہی طریقے کے پابند ہیں۔۔۔ ایک ہی راہ پر گامزن ہیں۔۔۔

 یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو تابعداری وفرماں برداری کا تعین کرتا ہے اور اسے اللہ اسکے رسول اور مسلمانوں کے لئے خاص کرتا ہے۔۔۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو اپنے ماننے والے (صاحب عقیدہ) کو طاقتور بنا دیتا ہے۔۔۔ لہذا مومن نہ تو ذلت وخواری کو جانتا ہے اور نہ ہی کمزوری قبول کرتا ہے۔۔۔ اس کی حالت تنگی اور فراخی کے مابین بدلتی رہتی ہے۔۔۔ تنگ دستی اور کشادگی کے مابین الٹتی پلٹتی رہتی ہے۔۔۔ لیکن اس کی عزت نفس اور اس کے ایمان کی بلندی پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ بلندی اسے اپنے رب عزیز سے حاصل ہوئی ہے (وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ) (آل عمران:139) یعنی: (دل شکستہ نہ ہو غم نہ کرو تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو)۔

یہ ایسا عقیدہ ہے جو اپنے ماننے والے ہر فرد کو دنیا میں اپنے آپ پر نگراں بنا دیتا ہے اس لئے کہ اسے یہ معلوم ہے کہ کل اس سے یہ کہا جائے گا (اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ اليَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيباً) (الإسراء:14) یعنی: (پڑھـ اپنا نامۂ اعمال آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے)اس طرح یہ عقیدہ اس کے دل میں وہ چیز پیدا کر دیتا ہے جو اسے اپنے رب کے حکم، اس کی شریعت اور اس کے فیصلے کے خلاف جانے سے روکتی ہے۔۔۔ اس کے دل میں وہ چیز بو دیتا ہے جو اسے راہ راست پر لانے کا کام کرتی ہے۔ اگر وہ کبھی اس سے نکل بھاگے یا راستہ کھو بیٹھے۔۔۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو بندے کے اندر عزم وحوصلہ پیدا کرتا ہے تاکہ وہ برابر اپنا سفر طےکرتا جائے۔۔۔ اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کرتا رہے جس میں اللہ کی مرضی وخوشنودی ہو اس کی طرف قدم بڑھاتا رہے۔۔۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو اپنے ماننے والے کو ایسا بنا دیتا ہے کہ اس کے اندر یہ بات بیٹھـ جاتی ہے کہ اللہ اس کی ہر بات کو سن رہا ہے اور ہر عمل کو دیکھـ رہا ہے۔۔۔ وہ خیانت کرنے والی نظروں اور جو کچھـ سینوں میں چھپا ہے اسے جانتا ہے وہ ہر ڈھکی چھپی چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ (سبحانہ وتعالی) قیامت کے روز اسے اٹھائےگا تاکہ اس کا حساب کتاب لے اور اس کے کئے کی اسے جزا دے۔۔۔ امام احمد نے اپنے مسند میں صعصعہ بن معاویہ سے روایت کیا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَراًّ يَرَهُ) (الزلزلة:7) یعنی: (پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھـ لےگا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھـ لےگا)۔۔۔ انہوں نے کہا:(اتنا میرے لئے کافی ہے۔ اب مجھے اس کے سوا کچھـ اور سننے کی ضرورت نہیں)۔

یہ عقیدہ اپنے ماننے والوں کو دنیا کی تنگی اور اس کی ذلت سے نکال کر آخرت کی کشادگی اور اس کی عظمت کی طرف لے جانے کا کام کرتا ہے۔۔۔ ایسی حالت میں آپ اس عقیدے پر ایمان رکھنے والوں کو دیکھیں گے کہ وہ چل تو رہے ہیں زمین پر لیکن ان کے دل آسمان سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ فنا اور زائل ہوجانے والی دنیا کے لئے کام نہیں کرتے بلکہ یہ اس دنیا سے آخرت کے لئے زاد راہ لیتے ہیں۔۔۔ یہ لوگ اس دنیا سے صرف اتنا ہی چاہتے ہیں کہ اللہ اور آخرت کی طرف ان کا جو سفر ہے اس میں یہ دنیا ان کی مدد کرے۔ یہ لوگ وہ ہیں جن کے ہاتھوں میں دنیا ہوتی ہے لیکن ان کے دل اس کی محبت میں گرفتار نہیں ہوتے۔۔۔ یہ لوگ دنیا کو آخرت کے لئے مسخر کرتے ہیں- ان کے پاس جو کچھـ ہوتا ہے سب اللہ کے لئے ہوتا ہے، اس کی خاطر اور اس کی راہ میں نچھاور کرنے کے لئے ہوتا ہے (وَلَلدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ) (الأنعام:32) یعنی: (اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں)۔۔۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو اپنے ماننے والوں کے دلوں میں اللہ سے ملنے کا شوق پیدا کرتا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں آنے والی ہر مشکل وسختی میں مٹھاس محسوس کرتے ہیں۔۔۔ وہ ہر ناہموار راستے کو بخوشی طے کرتے ہیں۔۔۔ ہمارا عقیدہ مکمل طور پر سلف صالح کا عقیدہ ہے۔۔۔ ہم اپنے عقیدے کے بموجب۔۔۔ کسی مسلمان حکمراں یا اس کے تحت رہنے والے شخص کو کسی گناہ یا معصیت کے صادر ہو جانے پر اسے کافر نہیں قرار دیتے اگر اس نے اسے حلال نہیں ٹھہرایا ہے۔۔۔ اس لئے کہ ایمان ایسی چیز ہے جو مومنوں کے دلوں میں گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔۔۔ یہ ایمان اطاعت وفرماں برداری سے بڑھتا ہے اور معصیت ونافرمانی سے گھٹتا ہے۔

معصیتوں اور گناہوں کی وجہ سے ایمان گھٹتا تو ہے لیکن یہ گناہ ایمان کو ختم نہیں کرتا۔۔۔ ایمان کے اندر کمی آنے اور اس کے ختم ہوجانے میں فرق پایا جاتا ہے۔۔۔ اسی طرح معصیت وگناہ کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں یہ ان کے مرتکبین کو جنت سے محروم نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں خواہ اس کی موت اس حالت میں ہی کیوں نہ ہوئی ہوکہ وہ اپنے برے عمل پر بضد تھا۔۔۔ ایسی صورت میں وہ اللہ کی مشیئت کے تابع ہے- چاہے تو وہ اسے معاف فرما دے کیونکہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے اور چاہے تو اسے عذاب دے اس لئے کہ وہ بڑا غالب اور حکمت والا ہے، پھر وہ اسے جہنم سے نکال کر پاک صاف کر کے جنت میں داخل فرما دے اگر وہ شخص اپنے رب سے توحید کی حالت میں ملا ہے اس کے ساتھـ کسی کو بھی شریک نہیں کیا ہے۔ حضرت ابو ذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: (میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بشارت دی کہ تمہاری امت میں سے جسے اس حالت میں موت آئی کہ اس نے اللہ کے ساتھـ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ چا ہے اس نے زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہاں چاہے اس نے زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو- آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے تین بار دہرایا بلکہ تیسری بار تو یوں کہا: ابو ذر کے نہ چاہنے کے باوجود خواہ اس نے زنا کاری یا چوری ہی کیوں نہ کی ہو)۔ (مسلم:154)

ایمان کے کامل ہونے کے لئے عمل شرط ہے نہ کہ اس کے صحیح ہونے کے لئے۔۔۔ لہذا جس نے شرعی فرائض کی ادائیگی میں کسی طرح کی تقصیر کی یا سستی سے کام لیا تو ہم اس کے کافر ہوجانے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔۔۔ اور نہ ہی یہ کہیں گے کہ اس کا ایمان کامل ہے کیونکہ وہ فرائض کو چھوڑنے کی وجہ سے ایمان میں ناقص ہے۔۔ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:(رہا وہ ایمان جس میں کفر اس کے ضد ہوگا وہ دل کا عقیدہ اور زبان کا اقرار ہے۔۔۔ اس لئے کہ کفر اس ایمان کی ضد ہے اور رہا وہ ایمان جس میں فسق وفجور اس کی ضد ہو نہ کہ کفر تو یہ وہ ہے جس میں عمل فرض ہے لہذا اگر اس نے اسے ترک کردیا تو یہ عمل کی ضد ہے اور ایسی حالت میں یہ فسق وفجور ہے نہ کہ کفر)۔

اللہ نے جو حکم نازل کیا ہے اسے یا اس کے بعض حصے کو محض ترک کر دینے کی وجہ سے ہم کسی کو کافر نہیں قرار دیں گے بشرطیکہ اس نے اسے جائز نہیں قرار دیا ہے یا اس کی فرضیت کا انکار نہیں کر بیٹھا ہے۔۔۔ اس لئے کہ اللہ نے جو حکم نازل کیا ہے وہ شرعی فرائض میں سے ایک فرض اور واجب کئے گئے اعمال میں سے ایک عمل ہے اور ایسا صرف حکمرانوں کے لئے نہیں بلکہ ہر اس ذمہ دار کے لئے بھی ہے جسے اللہ نے کچھـ لوگوں کا سر پرست بنادیا ہے۔۔۔ امام عز بن عبد السلام کہتے ہیں:(جس نے اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کیا اور ایسا اس حکم کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کیا تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا لیکن اگر انکار کرنے والا نہیں ہے تو ظلم کیا اور فسق وفجور کا ارتکاب کیا)۔

ہمارے عقیدے میں ہے کہ ہم عام مسلمانوں کو جو ناسمجھی میں کسی کافرانہ یا مشرکانہ فعل میں لت پت ہوجائیں تو انھیں ہم معذور سمجھیں یہاں تک کہ اس کے اس فعل کے خلاف حجت قائم کردی جائے تو پھر اس کے ترک کرنے والے کو کافر قرار دیا جاسکتا ہے اور پھر اس کی اپنی کچھـ شرطیں ہیں جنھیں علماء سلف صالح نے بیان کیا ہے۔ شریعت نے لا علمی کو تکفیر کے موانع میں سے ایک مانع اور دنیا وآخرت میں گرفت سے دور رہنے کا سبب قرار دیا ہے۔  توحید اور عقیدے کے مسائل سے لا علمی کی صورت میں معذور سمجھا جانا اللہ تعالی کی اپنے بندوں پر کی جانے والی رحمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے عدل وانصاف اور حکمت کا ایک پہلو شمار کیا گیا ہے کیونکہ یہ شرعی وعقلی لحاظ سے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کہ انسان کو ایک ایسی چیز پر سزادی جائے جس کا حکم اس تک پہنچا ہی نہیں، یا اس کی گرفت ایسے معاملے پر کی جائے جس کا علم اسے ہوا ہی نہیں۔۔۔ آخر اسی کے خاطر تو رسولوں کو بھیجا گیا ہے (رُسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيماً) (النساء:165) یعنی: (یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تا کہ ان کو مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ بہر حال غالب رہنے والا اور حکیم ودانا ہے) اپنی مخلوق کو عذر سے بچانے کی خاطر کسی امت کو بھی بغیر رسول کے نہیں چھوڑا: (وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فِيهَا نَذِيرٌ) (فاطر:24): (کوئی بھی ایسی امت نہیں گزری ہے جس میں ڈرانے والا نہ آیا ہو)۔ یہ رسول امت کو اللہ کی حجتوں سے متنبہ کرتا ہے۔۔۔ اور انھیں روز قیامت کے عذاب سے ڈراتا ہے تا کہ لوگوں میں سے کوئی یہ حجت پیش نہیں کرے کہ (مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلاَ نَذِيرٍ) (المائدة:19) یعنی: (ہمارے پاس تو کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آیا ہی نہیں) ارشاد باری ہے (وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ المُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيراً) (النساء:115) یعنی: (مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے دراں حالے کہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے ہم جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے)۔

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: (یعنی جس نے شریعت کے اس راستے کو چھوڑ کر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہیں دوسرا راستہ اختیار کرلیا اس طرح کہ وہ کسی اور جانب پھر گیا اور شریعت کسی اور جانب ہے اور ایسا جان بوجھـ کر حق کے واضح ہو جانے کے بعد کیا تو قرآنی قید وشرط (بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الهُدَى) (النساء:115) یعنی: (دراں حالے کہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو۔۔۔) کو مزید نمایاں کرنے کی خاطر امام ابن کثیر کہتے ہیں (اس کے بعد کہ حق اس کے لئے واضح ہوچکا ہے) یہ اس امر پر دلالت کررہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو شریعت سے الگ کر رہا ہے۔ اس لئے کہ جس طرح کسی عالم کی دوسرے شخص کی جہالت کی وجہ سے گرفت نہ ہوگی۔۔۔ اسی طرح کسی جاہل کا حساب وکتاب دوسرے کے علم کی وجہ سے نہیں لیا جائے گا۔۔۔ یعنی کوئی کسی دوسرے کا بوجھـ نہیں اٹھائے گا۔ارشاد باری ہے (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً) (الإسراء:15) یعنی: (اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ لوگوں کو حق وباطل کا فرق سمجھانے کے لئے ایک پیغامبر نہ بھیج دیں)۔ امام شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (اس آیت کریمہ کا ظاہری معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی دنیا وآخرت میں عذاب نہیں دے گا یہاں تک کہ اس کی طرف رسول بھیجے اور اسے خبر دار کرے۔۔۔ پھر وہ اس رسول کی نافرمانی کرے اور ڈرائے دھمکائے جانے کے بعد بھی کفر ومعصیت پر قائم رہے)۔

اسی طرح ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہم اسلامی معاملات میں کوئی غلطی کر بیٹھیں تو یہ ہمارے لئے زیادہ بہتر ہے کہ ہم کسی کے خلاف کفر کا فتوی لگانے کی غلطی کر بیٹھیں۔۔۔ امام غزالی رحمہ اللہ کہتے ہیں (جہاں تک ہوسکے کفر کا حکم لگانے سے پرہیز کریں اس لئے کہ قبلہ رخ نماز پڑھنے والوں اور کلمۂ شہادت (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) پڑھنے والوں کے خون ومال کو حلال کرنا خطا کاری ہے۔۔۔ ہزاروں کافروں کو زندہ چھوڑ دینے کی غلطی اس کے مقابلے میں بہت معمولی ہے کہ کسی ایک مسلمان شخص کا خون بہایا جائے)۔۔۔ اس لئے کہ کسی مسلم کو اس کے دین سے خارج کرنا اور اس کے خلاف کفر کا فتوی صادر کرنا در اصل اس کی گردن سے اسلام کے پھندے کو نکال پھیکنا ہے۔ اور اسے جہنم میں ہمیشہ رہنے کی تاکید کرنی ہے۔۔۔ یہ ایسا سخت اور مشکل مسئلہ ہے جس سے نیک لوگوں کے دل دہل جائیں۔۔۔ جس کے خوف سے مومنوں کے جسم لرز جائیں اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے بہت بڑا گناہ قراردیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے: (جس کسی نے کسی مسلمان پر کفر کا الزام لگایا تو ایسا کرنا در اصل اسے قتل کرنے کے برابر ہے) (سنن الترمذي:2560)۔۔۔ اس قسم کے گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یوں ڈرایا دھمکایا ہے: (اگر کسی نے اپنے بھائی کو کہا اے کافر، تو اس کی وجہ سے ان میں سے ایک اللہ کے غیض وغضب کا شکار ہوا۔۔۔ اب اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ تہمت خود لگانے والے کی طرف لوٹ آتی ہے)۔(صحيح مسلم:92)۔

امام غزالی کہتے ہیں: (مسئلہ یہ ہے کہ تم اپنی زبان کو اہل قبلہ سے روکے رکھو جب تک کہ یہ کلمۂ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ اس لئے کہ کفر کا حکم لگانے میں خطرہ ہے لیکن خاموشی اختیار کرنے میں کوئی خطرہ نہیں) اور جبکہ حدود سے بچنے کے لئے شبہات کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ یہ کفر اور ارتداد سے کم خطر ناک اور ہلکا ہے تو کیا کفر کا حکم لگا کر جو خون بہایا جائے گا اور جو مال کو جائز قرار دیا جائے گا یہ بدرجۂ اولی اس کا مستحق نہیں کہ شبہات کا سہارا لیتے ہوئے اس سے اجتناب کیا جائے؟۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی اصل کو ثابت کریں اور وہ ہے اسلام اور دین یہ ایسی اصل ہے جو اس وقت تک زائل نہیں ہوتی جب تک اس کے بر عکس ایسی قطعی دلیل نہ پیش کردی جائے جس کے بعد شک وتاویل کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ اسی طرح حجت تمام کرنے کے بعد جس فعل کے ترک کرنے کی وجہ سے کافر قرار دیا جا رہا ہے اس سلسلے میں اس کا بھی پاس ولحاظ رکھا جائے کہ اس کے علاوہ اب کوئی اور صورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اس لئے بھی کہ ہر کس وناکس کسی مسلمان پر کفر کا حکم لگانے کا حق نہیں رکھتا خواہ وہ کسی مسلم جماعت کا رکن ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ یہ حق صرف اور صرف اس مجتہد عالم کو حاصل ہے جس کے اندر اجتہاد کی تمام شرطیں پائی جاتی ہوں۔۔۔ حدیث میں آیا ہے۔۔۔ (جس نے ہماری نماز پڑھی ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا۔۔۔ ہمارے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت کھایا تو پھر وہ مسلم ہے۔ اس کے لئے وہ حقوق ہیں جو ہمارے لئے ہیں اور اس پر وہ سب کچھـ واجب ہے جو ہم پر واجب ہے)۔ (صحيح البخاري:384)۔

 ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو کافر قرار دیتے ہوئے دین سے خارج کرتے پھریں۔۔۔ بلکہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اللہ کے دین میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔۔۔ اور بر حق راستے کی جانب ان کی رہنمائی کریں۔

ہم رہنما ہیں حکمراں نہیں۔۔۔ ہم داعی ہیں جج نہیں ہم راہ دکھانے والے ہیں بغاوت کرنے والے نہیں۔۔۔

ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم مخلوق کو صحیح راستہ دکھائیں۔ لوگوں کو ان کے رب کی بندگی کی طرف لائیں۔۔۔ ان کا ہاتھـ پکڑتے ہوئے انھیں اس جنت کی طرف لائیں جس کی وسعت آسمانوں اور زمینوں کی مانند ہے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی امت کے زخموں کی مرہم پٹی کچھـ اس طرح کریں کہ نا فرمان مسلمانوں کو ایمان کے دائرے میں واپس لے آئیں۔

 ہمارا کام لوگوں کے خلاف حکم جاری کرنا نہیں۔۔۔ اور نہ ہی کبھی یہ ہمارا کام تھا۔ ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم لوگوں کے سینوں کو چاک کریں یا ان کے راز کو معلوم کرنے کےلئے نقب زنی کریں۔۔۔ ہم تو ظاہر کو دیکھتے ہیں، بھیدوں کا حال تو الله ہی کو معلوم ہے۔

لوگوں کی ظاہری حالت کو دیکھـ کر حکم لگانا ایک ایسی مضبوط دیوار ہے جو امت کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ معاشرے کو گرنے سے بچاتی ہے۔

 اس لئے کہ اگر لوگوں پر حکم لگانے کا دروازہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی باتوں اور سینوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کی بنیاد پر کھول دیا جائے تو ایسی صورت میں انار کی پھیل جائے گی۔ ہنگامے کھڑے ہو جائیں گے بے گناہ کو ملزم قرار دیا جائے گا اور ملزم کو بری قرار دے دیا جائے گا۔۔۔ بغیر دلیل وحجت کے کئے جانے والے دعووں میں کثرت آجائے گی اتنا ہی نہیں بلکہ وہ سب کچھـ سامنے آئے گا جس کا انجام صرف اللہ ہی جانتا ہے۔۔۔ ایسی صورت میں جینا دوبھر ہوجائے گا۔ اسباب معیشت میں فساد آجائےگا زندگی کی گاڑی کا پہیہ رک جائےگا امن وامان اٹھـ جائےگا۔۔۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث میں کہا جارہا ہے: (کیا تم نے اس کے دل کو چاک کیا تھا تاکہ تم یہ معلوم کرو کہ اس نے یہ بات کہی یا نہیں؟!) (صحيح مسلم: 140) امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (اس کا معنی ومطلب یہ ہے کہ تم ظاہری امور پر عمل کرنے کے مکلف بنائےگئے ہو زبان سے جو بات کہی جائے اس کے تم مکلف ہو۔۔۔ رہا دل تو تمہارے پاس اس کے اندر موجود چیز کے معلوم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔ اس طرح اس بات کو معیوب قرار دیا گیا ہے کہ جو بات زبان سے کہی جائے اس کے مطابق عمل نہیں کیا جائے۔۔۔)

ہمارے عقیدے کے یہ چند بنیادی عناصر ہیں جن کا تعلق کفر وایمان کے بعض مسائل سے ہے۔

مختصر یہ کہ ہمارا عقیدہ جس کے بموجب ہم اللہ تعالی کی بندگی کرتے ہیں۔۔۔ جس پر ہماری تربیت ہوئی ہے اور جس کے مطابق ہم تربیت کرتے ہیں جس سے فکری بنیاد عقیدے کا سلوک وبرتاو اور تربیتی اصول بناتے ہیں۔۔ یہ اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے۔ من وعن سلف صالح کا عقیدہ ہے۔۔۔ یہ ہمارا وہ عقیدہ ہے جسے ہم اپنے پہلو میں محفوظ کئے ہوئے ہیں۔۔۔ اس کی راہ میں قیمتی سے قیمتی چیز لگانے کے لئے تیار رہتے ہیں اس کی خاطر نفیس سے نفیس چیز کو معمولی سمجھتے ہیں:۔ اسی کی خاطر اور اسی کے ساتھـ ہم زندگی گذارتے ہیں۔۔۔ اس پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اسے ایسا راسخ عقیدہ سمجھتے ہیں جس میں کسی طرح کا شک وشبہ داخل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس میں کوئی خلل پیدا ہوسکتا ہے۔۔۔ ایمان اور توحید میں ہمارا عقیدہ سلف صالح کاعقیدہ ہے۔۔۔ ہم اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر یوم آخرت پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ اللہ کی ربوبیت اور الوہیت میں وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ اسی طرح اللہ کے اسماء اور اس کی صفات پر اس کی وحدانیت پر ہمارا ایمان ہے۔ اپنے نبی محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاتم الانبیاء والمرسلین اور پوری مخلوق کے سردار ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظیم رسالت پر ایمان رکھتے ہیں بایں طور کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ رسالت تمام پچھلی رسالتوں کو ختم کرنے والی اور سابقہ دینوں کو منسوخ کرنے والی ہے۔ موت اور مابعد الموت پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ قیامت اور اس کی بیان کی گئی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں اسی طرح میدان محشر اور حساب وکتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ حوض کوثر بر حق ہے۔ ناپ تول (میزان) بر حق ہے۔ پل صراط بر حق ہے، جنت برحق ہے ، جہنم برحق ہے۔۔۔ اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہین کہ دیدار الہی برحق ہے۔ شفاعت رسول برحق ہے۔ ہم اپنے عقیدے کے ان عناصر اور اس کے ان اٹل اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں جن سے اسلامی مملکت پروان چڑھی اور جن کی بنیاد پر منفرد قسم کی قرآنی نسل نے پرورش پائی جن کے ذریعہ اسلام کا دنیا وآخرت میں دور دورہ ہوا۔۔۔ یہ ہے ہمارا عقیدہ۔ اور اب پیش خدمت ہے ہماری فکر وسوچ۔

1من نحن UR



ہمارے بارے ميں -

  • اخبار
  • ہمارے بارے ميں
  • نخلستان اسلام
  • بيانات
  • مسلم خاندان
  • موجودہ قضيے
  • کتابيں
  • حادثات
  • جہاد کا حکم
  • ملاقاتيں
  • ويب سائٹ کي خدمات
  • اپني مشکلات بتائيں
  • فتوے
  • ارئين کي شرکت