|
۔(2-5) نص اور مصلحت کے ما بين تعلق ہم يہ سمجہتے ہيں کہ مفادات کی حصول يابی شريعت کے اصولوں ميں سے ايک اصل ہے۔۔ جيسا کہ امام شاطبی کا کہنا ہے: (يہ نص کی غايت اور اسکا مقصد ہے۔ ايسی صورت ميں عقل سليم اس کا تصور نہيں کر سکتی اور نہ ہی واضح نقل اس کو منظور کر سکتا ہے كہ نص اور مصلحت کے ما بين کسی طرح کا تعارض پايا جاۓ)۔
نصوص حقيقت ميں اس لئے آئی ہيں كہ بندوں کے مفادات کو بروئے کار لايا جائے۔۔ چاہے کسی لمحہ يا کسی وقت اس کا ہميں ادراک نہ ہو سکے ليکن حقيقت يہی ہے۔
لہذا جب نص قطعی ہو تو کسی حال ميں بھی تعارض پائے جانے کا تصور نہيں پايا جاتا ليکن اگر نص ظنی ہے تو تعارض واقع ہو سکتا ہے۔ ليکن يہ تعارض نص اور مصلحت ميں نہيں ہوگا بلکہ مجتہد کے فہم اور مصلحت کے ما بين واقع ہوگا۔ اس لئے کہ عقلوں ميں تفاوت ہوتا ہے۔۔ فہموں ميں اختلاف پايا جاتا ہے اور درجہ کمال توصرف اللہ کی ذات کو حاصل ہے۔
جب شريعت کا نازل کرنے والا، بشر کو پيدا کرنے والا اور اپنی شريعت اور اپنے احکام کا مکلف بنانےوالا اللہ تعالی ہو اور اس سے زيادہ اس کی مخلوق کے بارے ميں آگاہی کسے ہوگی، ارشاد باری ہے: (أَلاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ) (الملك:14): (كيا وہی نہ جانيگا جس نے پيدا کيا ہے) ايسی صورت ميں اس کا تصور نہيں کيا جا سکتا کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ شريعت اور بندوں کی مصلحتوں اور ان کے مفادات ميں کوئی تعارض ہو۔ ہاں اگر خود ہی اللہ نے اپنے بندوں کو حرج ميں ڈالنے اور مشقت کا شکار کرنے کا فصيلہ کيا ہو اور يہ كتاب وسنت کی قطعی نصوص کے سراسر منافی ہے۔ ارشاد باری ہے: (يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ العُسْرَ) (البقرة:185): (اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہيں چاہتا)۔
فهمنا للعلاقة بين النص والمصلحة 2-5 UR
ہمارے بارے ميں -
|